نکاح

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا

فتوی نمبر :
73049
| تاریخ :
2024-05-09
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا

السلام علیکم
مفتی صاحب! میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں اور جہاں خواہش ہے وہ لڑکی بھی نکاح کے لئے رضامند ہے، میرے گھر والے (لڑکے کے) راضی ہیں، لڑکی کے گھر والے راضی نہیں ہورہے، ہر طرح سے کوشش کی ہے تین دفعہ میری والدہ نے لڑکی کی والدہ سے رشتے کی بات کی ہے، دو دفعہ میری بہن لڑکی کی والدہ سے رشتے کی بات کرچکی ہے، ایک دفعہ میں نے بھی لڑکی کی والدہ سے بات کی ہےکہ جو بھی مسئلہ آپ کو ہے میں اس کا ذمہ دار ہوں لیکن آپ راضی ہوجائیں اس رشتے کے لئے لیکن انہوں نے انکار کردیا، لڑکی کی بھی بہت خواہش ہے کہ میرے ساتھ نکاح ہوجائے اور یہ بات لڑکی کے ماں باپ اور بھائیوں کو پتہ ہے لیکن پھر بھی انکار کررہے ہیں، لڑکی کے ماں باپ کا کہنا ہے کہ ہم نے رشتہ لڑکی کے چچا زاد کو دینا ہے، ہمیں وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ لڑکا ماں باپ کا اکلوتا ہے تو لڑکی وہاں خوش رہے گی، میں گورنمنٹ سرونٹ ہوں اپنا اور بیوی کا خرچہ اچھے سے اٹھا سکتا ہوں، بہتر مستقبل کے لئے کوشش بھی کررہا ہوں کوئی بیماری ( شراب، نشہ، زنا وغیرہ) بھی نہیں کرتا , اس کے باوجود بھی لڑکی کے ماں باپ کی ضد ہے کہ ہم نے رشتہ نہیں دینا، لڑکی بہت سمجھا چکی ہے اپنے ماں باپ کو , لیکن وہ اسے ڈانٹ دیتے ہیں، لڑکی کے والد اس پر ہاتھ بھی اٹھا چکے ہیں اور ماں گھر سے نکالنے کی دھمکی بھی دے چکی ہے، میری عمر 29 سال ہے اور لڑکی کی عمر 19 سال ہے دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور حلال تعلق بنانا چاہتے ہیں ایک ہی خاندان کے ہیں اور بہت قریب سے جانتے ہیں، اب میرا سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟ اور اگر ہم خود نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق اگر کوئی معقول عذر نہ ہو اور لڑکی بھی سائل کے ساتھ نکاح کرنے پر رضامند ہو تو لڑکی کے والدین کو بلا کسی عذر کے اس رشتے میں رکاوٹ بننا مناسب نہیں، البتہ اگر کوئی معقول عذر کی وجہ سے وہ سائل کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح نہ کرنا چاہتے ہوں تو سائل اور اس لڑکی کے لئے والدین کی اجازت و رضامندی کے بغیر قطعاً مناسب نہیں کہ وہ آپس میں نکاح کریں بلکہ بسا اوقات اپنی مرضی اورپسند سے کیا ہوا نکاح والدین کی ناراضگی، اور دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے پائیدار نہیں ہوتا ، اور عموماً جدائی اور علیحدگی پر منتج ہوتا ہے،لہٰذا سائل کو چاہیئے کہ ازخود یا خاندان کے بڑوں کے ذریعے لڑکی کے والدین کو راضی کرکے اس رشتے کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کرے یا اس کے علاوہ کسی دوسری جگہ شادی کا اہتمام کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکاۃ المصابیح: وعن عبدالله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «رضي الرب في رضى الوالد وسخط الرب في سخط الوالد» . (ج۳، ص۱۳۷۹)۔
وفی الرد المحتار تحت (قوله ولذا لا تعتبر) فإن حاصله: أن المرأة إذا زوجت نفسها من كفء لزم على الأولياء الخ ( باب الکفاءۃ ج 3 ص 84 ط: سعید )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73049کی تصدیق کریں
0     803
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات