السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
مفتی صاحب تین اشخاص ہیں x ، y اور z، z جو ہے وہ بہت غریب ہے اور x کا مقروض ہےz, x سے رقم واپسی کا مطالبہ کر تا ہے ، لیکن zکے پاس x کے قرض کو واپس کرنے کے لئے رقم موجود نہیں ہے ، اور مستقبل میں بھی قرض لوٹانے کی امید نہیں یہاں پر تیسرا شخص z , y کی جانب سے x کو رقم کا کچھ حصہ زکوۃٰ ادا کرنےکی نیت دیتا ہے ،میرا سوال یہ ہے کہ y اگر z کو نہیں بتاتا کہ اس نے x کو تمہارے قرض کی کچھ رقم ادا کردی ہے ، تو کیا y کی طرف سے زکوۃٰ ادا ہو جائیگی ؟ یا yکے لئے لازمی ہے کہ z کو بتادیں کہ اس نے تمہاری طرف سے قرض کا کچھ حصہ x کو ادا کردیا ہے ؟
واضح ہو کہ زکوۃٰکی ادائیگی کے لئے مستحقِ زکوۃٰ شخص کو زکوۃٰ کے مال کا مالک بنانا لازم اور ضروری ہے ،اس کے بغیر شرعاًزکوۃٰ ادا نہ ہو گی، لہذا صورتِ مسؤلہ میں کسی تیسر ے شخص کا مقروض کے علم میں لائے بغیر زکوۃٰ کی رقم سے قرض اداکرنے سے زکوۃٰ ادا نہ ہو گی۔
کمافی الھندیہ:اذادفع الزکاۃ الی الفقیر لایتم الدفع مالم یقبضہا أویقبضہا للفقیر من لہ ولایۃ علیہ نحوالأب والوصی یقبضہاللصبی والمجنون کذافی الخاصۃ(کتاب الزکاۃباب المصرف ج1 ص190 ط:ماجدیہ)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0