میں نے اپنے دفتر کے ایک آفس بوائے کو گھر کی تعمیر میں مدد کرنے کے لیے قرض کے طور پر کچھ رقم دی، چند سالوں کے بعد وہ بیمار ہو گیا اور جہاں تک میں جانتا ہوں، آج تک وہ بے روزگار ہے، ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے ، آج تک میں اس رقم کو اپنی طرف سے قابل ادائیگی زکوٰۃ کے حساب میں شامل کرتا رہا ہوں، اب میرا ارادہ ہے کہ اس قرض کو چھوڑ دوں اور وہ رقم اس کو بطور زکوٰۃ دے دوں، کیا میں یہ کر سکتا ہوں؟ یعنی اس قرض کو میں اپنی زکوٰۃ کی رقم سے منہا کرسکتا ہوں؟
واضح ہو کہ اگر مقروض قرض کی رقم خرچ کرچکا ہو، تو اب زکوٰۃ کی نیت اس میں معتبر نہیں، اور اس طرح زکوٰۃ کی مد میں اس کو شمار کرنے سے یا معاف کردینے سے مالک کی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، بلکہ بدستور اس کے ذمہ برقرار رہے گی، البتہ ملازم اگر واقعۃً مستحق زکوۃ اور غیر سیّد ہو ،تو زکوۃ کی رقم اس کی ملکیت میں دے کر دوبارہ اس سےاپنے قرض کی مد میں واپس لے لی جائے، تو ایسا کرنے سے سائل کی زکوۃ بھی ادا ہوجائے گی، اور ملازم کا قرض بھی ادا ہوجائے گا۔
کما فی الدرالمختار: واعلم أن أداء الدين عن الدين والعين عن العين، وعن الدين يجوز وأداء الدين عن العين، وعن دين سيقبض لا يجوز. وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه،الخ۔
(قوله وحيلة الجواز) أي فيما إذا كان له دين على معسر، وأراد أن يجعله زكاة عن عين عنده أو عن دين له على آخر سيقبض اھ (ج۲، ص۲۷۰،۲۷۱)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0