کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ میری بیٹی کو میری بیوی اپنے ساتھ لیکر اپنے میکے چلی گئی اور وہاں اس نے مجھ سے پوچھے بغیر میری بیٹی کا نکاح پڑھا دیا، جبکہ میں نہیں چاہتا کہ اس طرح میری بیٹی کی شادی ہو، اور وہ رخصت ہوجائے براہ کرم مجھے آگاہ کیا جائے کہ کیا شرعاً مجھے حق حاصل ہے کہ میں نکاح ختم کروا دوں اور اپنی بچی کو واپس بلا لوں، اور اس کا نکاح کروادوں، نیز ولایت کفایت وکفالت سے مجھے آگاہ فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔
نوٹ: میری بیٹی کی عمر تقریباً اٹھارہ سال ہے اور ہم قوم کے مہاجر ہیں ، جبکہ لڑکا کاٹھیاواری قوم سے تعلق رکھتا ہے۔
واضح ہوکہ اولاد کے نکاح کی ولایت باپ کو حاصل ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنی بیٹی کا نکاح کرادینا انتہائی نامناسب اور جلد بازی پر مبنی عمل ہےجس پر سائل کی بیوی کو ندامت اور سائل سے معافی مانگنی چاہئے، تاہم اگر مذکور لڑکا لڑکی کا ہم پلہ ہو ، اور مہر مثل پر نکاح شرعی گواہان کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کے ساتھ کیا گیا ہو، تو یہ نکاح درست منعقد ہوچکا ہے، چنانچہ اگر لڑکا سلجھا ہوا اور اپنے گھر کو بسانے والا ہو اور بیوی کے حقوق ادا کرنے پر قادر ہو، تو سائل کو چاہئے کہ اب نکاح کو توڑنے کے بجائے اس کو برقرار رکھے، اور طلاق لیکر اپنی بیٹی کا گھر برباد نہ کرے۔
کما فی الفقہ الحنفی: لا اجبار علی البکر البالغہ فی النکاح لما روت السیدۃ عائشۃ عن النبی ﷺ قال، استامروا النساء فی ابضاعھنّ الخ (ج2 ص161 کتاب النکاح ط وحیدی)۔
وفی الدرالمختار: (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح الخ ( ج3 ص56 باب الولی ط سعید)۔
وفی ردالمحتار:تحت (قوله ولاية ندب) أي يستحب للمرأة تفويض أمرها إلى وليها كي لا تنسب إلى الوقاحة بحر وللخروج من خلاف الشافعي في البكر، وهذه في الحقيقة ولاية وكالة الخ (3 ص55 باب الولی ط سعید)۔