محترم مفتی صاحب، چند مسائل کے بارے میں رہنمائی درکار ہے، ہماری مسجد سے ملحق ایک مدرسہ ۔۔۔۔ ہے گزشتہ رمضان المبارک میں رہائشی طلباء موجود تھے لیکن اب کچھ وجوہات کی بناء پر رہائشی طلباء کا قیام رات کو نہیں ہے لیکن دو وقت کا کھانا انہیں مدرسہ کی طرف سے مل رہا ہے موجودہ صورتحال میں مدرسہ کی انتظامیہ قربانی کی کھالیں اور دیگر عطیات ، صدقہ، زکوٰۃ، خیرات کی صورت میں وصول کرسکتی ہے یا نہیں جبکہ رہائشی طلباء کو لانے کی کوشش ہورہی ہے براہِ مہربانی اس مسئلہ کا شرعی حل بتائیں۔ جزاک اللہ!
مدرسہ میں کھانا کھانے والے بالغ طلباء خود اور نابالغ طلباء کے اولیاء اور سرپرست مستحق زکوٰۃ ہوں تو ایسے طلباء کیلئے زکوٰۃ، چرم قربانی یا دیگر صدقات واجبہ وغیرہ وصول کرنا اور ان کی واقعی ضروریات میں خرچ کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، ورنہ نہیں۔
فی رد المحتار: قولہ إذا وکلہ الفقراء لأنہ کما قبض شیئا ملکوہ وصار خالصًا مالھم بعضا ببعض ووقع زکاة عند الدافع لکن بشرط أن لا یبلغ المال الذی بیدہ الوکیل نصابًا فلو بلغہ وعلم بہ الدافع لم یجزہ إذا کان الآخذ وکیلا عن الفقیر کما فی البحر عن الظھیریة قلت وھذا إذا کان الفقیر واحدا فلو کانوا متعددین لابد أن یبلغ لکل واحد نصابًا لأن ما فی ید الوکیل مشترک بینھم. الخ (ج۲، ص۲۶۹) واللہ اعلم وعلمہ اتم
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1