نکاح

بیٹے کے صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود والدین اسکی شادی پر آمادہ نہیں

فتوی نمبر :
73846
| تاریخ :
2024-06-10
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بیٹے کے صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود والدین اسکی شادی پر آمادہ نہیں

السلام علیکم!
میرا نام محمد انس ہے میری عمربیس (20) سال ہے،میں نکاح کرنا چاہتا ہوں،میرے والد اور والدہ میرا نکاح نہیں کروارہے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ تمہاری شادی چار سال بعد کروائیں گے،حالانکہ میں اپنی شادی کا سارا خرچہ خود اٹھانے کو تیار ہوں،ہمارا مکان کرایہ کا ہے،میرے والد کہہ رہے ہیں،اپنا مکان جب لے لونگا جب شادی کرواؤنگا،میرا اپنا کاروبار ہے،میر ی دوکان ہے،جس کی ماہانہ آمدنی بہت اچھی ہے،میں نے کہا کہ میری شادی کروادو،میں الگ گھر لے لونگا،میں نے یہ بھی کہا کہ میری ابھی منگنی کروادو،ایک سال بعد شادی کردینا،والد اور والدہ اس پر بھی مان نہیں رہے ہیں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر میں نکاح نہیں کرتا تو مجھے شدید ڈپریشن اور گناہ کی طرف مائل ہونے کا خطرہ ہے،لہذا آپ سے التماس کی جاتی ہےکہ اس مسئلہ پر میری رہنمائی کی جائے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مسئولہ صورت میں جبکہ سائل شادی کے بعد کے تمام ضروری اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو سائل کے والد کے لئے اس کے بعد نکاح میں بلاوجہ تاخیر شرعاً مناسب نہیں،اور ایسی صورت میں سائل اگر گناہ میں مبتلا ہوجائے تو اس کے ذمہ دار سائل کے ساتھ ساتھ اس کے والدین بھی ہوں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی أحكام القرآن للجصاص: ما رواه ابن عجلان عن المقبري عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة حق على الله عونهم المجاهد في سبيل الله والمكاتب الذي يريد الأداء والناكح الذي يريد العفاف
وروى إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء
وقال إذا جاءكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد كبير
وعن شداد بن أوس أنه قال لأهله زوجوني فإن النبي صلى الله عليه وسلم أوصاني أن لا ألقى الله أعزب
وحدثنا عبد الباقي قال حدثنا بشر بن موسى قال حدثنا خلاد عن سفيان عن عبد الرحمن بن زياد عن عبد الله بن يزيد عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الدنيا متاع وخير متاعها المرأة الصالحة الخ (ج5 ص178 سورۃ النور ایت 32 ط: دار احیاء التراث العربی بیروت)۔
وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وروي عن النبي - عليه الصلاة والسلام - أنه قال: «ثلاث لا يؤخرن: الجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفؤاْ، والدين إذا وجدت ما يقضيه» الخ(ج5 ص249 فصل فی حکم البیع ط: سعید)۔
وفی الدر المختار: (ويكون واجبا عند التوقان) فإن تيقن الزنا إلا به فرض نهاية وهذا إن ملك المهر والنفقة، وإلا فلا إثم بتركه بدائع (ج3 ص6 کتاب النکاح ط: سعید)۔
وفی رد المحتار تحت (قوله: عند التوقان) مصدر تاقت نفسه إلى كذا إذا اشتاقت من باب طلب بحر عن المغرب وهو بالفتحات الثلاث كالميلان والسيلان، والمراد شدة الاشتياق كما في الزيلعي: أي بحيث يخاف الوقوع في الزنا لو لم يتزوج إذ لا يلزم من الاشتياق إلى الجماع الخوف المذكور بحر.
قلت: وكذا فيما يظهر لو كان لا يمكنه منع نفسه عن النظر المحرم أو عن الاستمناء بالكف، فيجب التزوج، وإن لم يخف الوقوع في الزنا (قوله: فإن تيقن الزنا إلا به فرض) أي بأن كان لا يمكنه الاحتراز عن الزنا إلا به؛ لأن ما لا يتوصل إلى ترك الحرام إلا به يكون فرضا بحر، وفيه نظر إذ الترك قد يكون بغير النكاح وهو التسري، وحينئذ فلا يلزم وجوبه إلا لو فرضنا المسألة بأنه ليس قادرا عليه نهر لكن قوله: لا يمكنه الاحتراز عنه إلا به ظاهر في فرض المسألة في عدم قدرته على التسري وكذا في عدم قدرته على الصوم المانع من الوقوع في الزنا فلو قدر على شيء من ذلك لم يبق النكاح فرضا أو واجبا عينا، بل هو أو غيره مما يمنعه عن الوقوع في المحرم اھ(ج3 ص6 کتاب النکاح ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73846کی تصدیق کریں
0     591
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات