السلام علیکم! سلام کے بعد عرض یہ ہے کہ میں ایک سنی لڑکا ہوں قوم میری قطب شاہ اعوان ہے میں ایک سنی سیّدہ لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں اور میرے لئے کیا حکم ہے اس نکاح کے بارے میں؟ اور لڑکی خود چاہتی ہے کہ یہ رشتہ ہوجائے، لڑکی کے گھر والے رکاوٹ پیدا کررہے ہیں کہ سیّد اور غیر سیّد کا نکاح نہیں ہوسکتا۔
واضح ہو کہ سید زادی کے اولیاء اگر غیر سید کے ساتھ نکاح پر راضی ہوں تو ایسا نکاح بلاشبہ جائز اور درست ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں مذکور لڑکی کے اولیاء اگر سائل کے ساتھ نکاح کرنے پر راضی ہوں تو شرعاً یہ نکاح جائز اور درست ہوگا، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ موجود نہ ہو۔
ففی الدر المختار: (الكفاءة معتبرة) في ابتداء النكاح للزومه أو لصحته (من جانبه) أي الرجل لأن الشريفة تأبى أن تكون فراشا للدنيء ولذا (لا) تعتبر (من جانبها) لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش وهذا عند الكل في الصحيح اھ (3/ 84)
وفی بدائع الصنائع: وأما الثاني فالنكاح الذي الكفاءة فيه شرط لزومه هو إنكاح المرأة نفسها من غير رضا الأولياء لا يلزم حتى لو زوجت نفسها من غير كفء من غير رضا الأولياء لا يلزم اھ (2/ 317)