میں 10 ماہ کی عمر سے اپنے ننھیال کے ساتھ رہ رہا ہوں، میری والدہ کی وفات کی وجہ سے میرے والد اور میرے نانا نانی کی آپس میں لڑائی ہوئی تھی، وہ 5 سال تک عدالت میں میری تحویل کے لیے لڑتے رہے، پھر فیصلہ آیا کہ میں اپنے ماموں کے ساتھ رہتا تھا،اور ہر 15 دن میں ایک بار اپنے والد سے ملنے جاتا تھا، اب میں 28 سال کا ہوں میرے نانا نانی کا انتقال ہو گیا ہے، میں نے اپنے والد سے شادی کے لیے کہا، وہ ہر طرح سے میرا ساتھ دیتے رہے، میرے ماموں اب بھی مخالفت کرتے ہیں، میرے والد میری والدہ کے واقعہ کی وجہ سے، میرے ماموں کوئی کام نہیں کرتے اور نہ ہی انہوں نے شادی کی، لیکن انہوں نے بچپن سے میرا خیال رکھا ہے، دونوں آپس میں جھگڑ رہے ہیں مجھے کیا کرنا چاہیے؟
سائل کی بچپن میں پرورش اگرچہ ننھیال میں ہوئی ہے اور سائل کے نانا ،نانی مرحومین اور ماموں نے سائل کا خیال رکھا، جس پر امید ہے کہ وہ عنداللہ اجروثواب کے مستحق ہوں اور سائل کو بھی اپنے ننھیال کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے احسان مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے، تاہم اس کے باوجود بھی سائل کا ولی اور سرپرست سائل کا والد ہی ہے، چنانچہ اگر سائل کا والد سائل کی خواہش اور مطالبے پر کسی مناسب جگہ سائل کا رشتہ کرنا چاہے تو سائل کے ماموں کو اس کی مخالفت کرنے اور اس سے لڑنے جھگڑنے کا حق حاصل نہیں، اور نہ ہی سائل کے ذمہ اپنے ماموں کی طرف داری کرنا لازم ہے، لہذا سائل کو چاہیئے کہ حکمت اور بصیرت کے ساتھ مناسب انداز میں اپنے ماموں کو سمجھا کر مذکور طرز عمل سے باز رکھنے کی کوشش کرے۔