نکاح

شادی شدہ اور کئی بچوں کے باپ کا کسی لڑکی سے چھپ کر نکاح کرنا

فتوی نمبر :
74315
| تاریخ :
2024-07-04
معاملات / احکام نکاح / نکاح

شادی شدہ اور کئی بچوں کے باپ کا کسی لڑکی سے چھپ کر نکاح کرنا

میں فہیم ہوں، شادی شدہ ہوں اور تین بچوں کا باپ ہوں، لیکن میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں، وہ لڑکی بھی مجھ سے محبت کرتی ہے اور میں بھی اس سے محبت کرتا ہوں، محترمہ (لڑکی) نے اپنے گھر والوں سے اس بارے میں بات کی، لیکن وہ نہیں مانے اور اس پر تشدد بھی کیا، اور اس کو مجھ سے تعلق ختم کرنے کا کہا، تاہم ہم ابھی بھی ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے ہیں، اپنے تعلق کو جائز بنانا چاہتے ہیں، اور ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے، اس معاملے پر آپ کی کیا رائے ہے؟ لڑکی کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا اسے زبردستی اپنے والدین کی سننی چاہیے اور آگے بڑھ جانا چاہیے یا پھر کسی کو بتائے بغیر مجھ سے نکاح کر لے؟ آپ کے مشورے اور جواب کا انتظار رہے گا۔
دوسرا : کیا اسے مجھ سے تعلق برقرار رکھنا چاہیے، یا تعلق ختم کر لینا چاہیے؟ کیا چپ کر کے نکاح جائز ہے یا زبردستی والدین کی مرضی کی شادی کرنی چاہیے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح سے قبل کسی بھی اجنبی مرد و عورت کا ایک دوسرے سے باہم محبت کا تعلق رکھنا، بات چیت اور بے تکلفی اختیار کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے، لہٰذا اولاً تو سائل اور مذکور لڑکی کو اپنے اس غیر شرعی تعلق پر بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے اس سے مکمل اجتناب لازم ہے -ثانیاً جب سائل باقاعدہ شادی شدہ اور بچوں کا باپ ہے تو اسے اپنی شادی شدہ زندگی اور بیوی بچوں پر توجہ دینے کے بجائے اجنبی عورت سے تعلق استوارکرنا غیر شرعی اور حرام عمل ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی بچوں کو دھوکہ دینے کے مترادف بھی ہے، اس لئے اسے چاہیئے کہ وقتی جذبات کی وجہ سے اپنا بسا بسایا گھر برباد نہ کرے، تاہم اگر سائل واقعۃً اس لڑکی کے ساتھ دوسری شادی کرنے کی خواہش رکھتا ہو اور وہ دونوں بیویوں کے درمیان عدل و مساوات رکھنے اور اپنے بچوں کے حقوق کی ادائیگی پر بھی مکمل طور پر قادر ہو تو اسے اپنی پہلی بیوی کے علم میں لاکر اس کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد دوسری لڑکی کے گھر والوں کو رشتہ بھیجنا چاہیئے اور اس کے والدین کی رضامندی حاصل کرکے اس سے شادی کا اہتمام کرے ورنہ اس طرح چھپ کر کیا ہوا نکاح والدین اور سرپرستوں کی دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے پائیدار نہیں ہوتا، اس لئے اس سے اجتناب ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکاۃ المصابیح: وعن عبدالله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «رضي الرب في رضى الوالد وسخط الرب في سخط الوالد» . (ج۳، ص۱۳۷۹)۔
وفی الدر المختار: وفي الشرنبلالية معزيا للجوهرة: ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها و يرد السلام عليها، وإلا لا. انتهى.
و فی الشامیۃ تحت قوله ( وإلا لا ) أي وإلا تكن عجوزا بل شابة لا يشمتها ولا يرد السلام بلسانه. قال في الخانية: وكذا الرجل مع المرأة إذا التقيا يسلم الرجل أولا، وإذا سلمت المرأة لأجنبية على رجل، إن كانت عجوزا رد الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابة رد عليها في نفسه. وكذا في الرجل إذا سلم على امرأة أجنبية فالجواب فيه على العكس اه. وفي الذخيرة: وإذا عطس فشمتته المرأة فإن عجوزا رد عليها وإلا رد في نفسه اه. (ج۶، ص۳۶۹)-
و فی الفقہ الاسلامی: فلا يجوز أن يخلو رجل بامرأة ليست زوجته ولا ذات محرم منه (الی قولہ) وقوله: «ألا لا يخلون رجل بامرأة، إلا كان ثالثهما الشيطان،الخ (ج۳، ص۵۶۷)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 74315کی تصدیق کریں
0     738
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات