نکاح

حاملہ عورت کے ساتھ نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
74342
| تاریخ :
2024-07-05
معاملات / احکام نکاح / نکاح

حاملہ عورت کے ساتھ نکاح کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! جناب سوال یہ ہے کہ کیا حاملہ عورت کے ساتھ بچے کی پیدائش سے پہلے نکاح ہو جاتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کی مراد پوری طرح واضح نہیں کہ حاملہ عورت غیر شادی شدہ ہے یا معتدہ ہے، تاکہ اس کے مطابق حکم شرعی سے آگاہ کیا جاتا، تاہم اگر حاملہ عورت غیر شادی شدہ ہو ،تو اس کے ساتھ نکاح تو کیا جاسکتا ہے، البتہ ہمبستری کرنا وضع حمل سے پہلے شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، لیکن اگر حاملہ عورت معتدہ ہو (طلاق یا وفات کی عدت میں ہو) تو ایسی صورت میں جب تک وضع حمل ہو کر عدت مکمل نہ ہو جائے، اس وقت تک اس سے نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار: (و) صح نكاح (حبلى من زنى لا) حبلى (من غيره) أي الزنى لثبوت نسبه ولو من حربي أو سيدهالمقر به (وإن حرم وطؤها) ودواعيه (حتى تضع) متصل بالمسألة الأولى لئلا يسقي ماءه زرع غيره إذ الشعر ينبت منه.[فروع]لو نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقا والولد له ولزمه النفقة،الخ (3 ص48 کتاب النکاح ط سعید)۔
وفی ردالمحتار: (قوله: وصح نكاح حبلى من زنى) أي عندهما. وقال أبو يوسف لا يصح والفتوى على قولهما، كما في القهستاني عن المحيط. وذكر التمرتاشي أنها لا نفقة لها وقيل لها ذلك، والأول أرجح؛ لأن المانع من الوطء من جهتها بخلاف الحيض لأنه سماوي بحر عن الفتح (قوله: حبلى من غير إلخ) شمل الحبلى من نكاح صحيح أو فاسد أو وطء شبهة أو ملك يمين، وما لو كان الحبل من مسلم أو ذمي أو حربي الخ(ج3 ص48 کتاب النکاح ط سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 74342کی تصدیق کریں
0     893
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات