سوال !
اگر لڑکی بالغ ہو اور اس کے والدین فوت ہوجائیں اور اس کے بھائی موجود ہوں،اگر لڑکی اپنی شادی کے لئے اپنے بھائیوں کو اپنا وکیل نہ بنانا چاہتی ہو تو کیا کسی اور کو اپنا وکیل بناسکتی ہے؟
اگرچہ بالغہ لڑکی کا اپنے بھائی کو اپنے نکاح کا وکیل بنانا ضروری نہیں بلکہ اس کے علاوہ کسی دوسرے محرم کو بھی اپنے نکاح کا وکیل بناسکتی ہے۔
تاہم والدکے بعد لڑکی کی دیکھ بال اور تمام تر امور کی ذمہ داری بھائیوں کے ذمہ لازم ہوتی ہے،اس لئے لڑکی کا اپنے نکاح کے معاملے میں بھائیوں کو لاعلم رکھ کر اپنی مرضی سے نکاح کرنا معاشرتی اقدار کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ شرعاً بھی مناسب نہیں ورنہ بعد میں پیش آنے والی مشکلات اور پریشانیو ں میں بھائیوں کی معاونت شامل نہ رہیگی،اس لئے مذکورہ لڑکی کو چاہئیے کہ اپنے بھائیوں کو اعتماد میں لیکر ہی اپنے نکاح کے معاملے کو سرانجام دینے کا اہتمام کرے۔
کمافی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما ولاية الندب والاستحباب فهي: الولاية على الحرة البالغة العاقلة بكرا كانت أو ثيبا في قول أبي حنيفة وزفر وقول أبي يوسف الأول، وفي قول محمد وأبي يوسف الآخر الولاية عليها ولاية مشتركة الخ(ج2 ص247 کتاب النکاح ط: سعید)۔
وفی الدر المختار: (فنفذ نكاح حرة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا الخ(ج3 ص55/56 کتاب النکاح ط: سعید)۔
وفی البناية شرح الهداية: قال: كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه جاز أن يوكل به غيره الخ(ج9 ص217 کتاب النکاح ط: دارالکتب العلمیۃ،بیروت)۔