نکاح

کیا کہیں بھی نکاح کرنے میں ہر شخص آزاد ہے؟

فتوی نمبر :
74497
| تاریخ :
2024-07-11
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا کہیں بھی نکاح کرنے میں ہر شخص آزاد ہے؟

ایک بالغ سنی دیوبند لڑکی کا نکاح ایک شیعہ اثناء عشری لڑکے سے جائز ہے ؟ لڑکے کے مطابق وہ تمام صحابہ کرام اور امہات المؤمنین کی عزت کرتا ہے۔قرآن کے مکمل ہونے پر کوئی شک نہیں ۔ لڑکی کے والدین اس نکاح کے حق میں بلکل نہیں ہیں، ان کے مطابق شیعہ شرک اور بدعات میں ملوث ہیں جبکہ لڑکی کا کہنا ہے کہ اسلام اسےاس بات کی مکمل اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنا شریک حیات اپنی مرضی سے چنے ۔والدین سخت پریشان ہیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ اسلام اگر چہ ہر فرد کو شریک ِحیات منتخب کرنے کا اختیار دیتاہے، لیکن یہ اختیار عام اور مطلق نہیں، بلکہ ا س کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ نکا ح کے لئے بنیادی شرائط و ارکان پر پورا اترتا ہو، چنانچہ اگر کوئی لڑکی بالفرض کسی غیر مسلم اور مشرک سے نکاح کرنے پر بضد ہو تو شریعت قطعاً اس کو یہ اختیار نہیں دیتی کہ وہ اس کے ساتھ نکاح کرے ، جبکہ شیعوں کے مختلف فرقے ہیں، اور ہر فرقہ کے عقائد مختلف ہیں، جن میں سے کچھ فرقوں کے لوگ کفریہ عقائد کے حامل ہونے کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور چونکہ اس کی تحقیق اور جستجو میں پڑنا ایک مشکل امر ہے، اس لئے صورت مسئولہ میں مذکور لڑکی کو چاہئے کہ بہر صورت شیعہ لڑکے سے نکاح کرنے کے بجائے اپنے والدین کی بات مان کر کسی سنی العقیدہ لڑکے سے نکاح کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار: نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، ‌أو ‌اعتقد ‌الألوهية ‌في ‌علي ‌أو ‌أن ‌جبريل ‌غلط ‌في ‌الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن (ج4، ص237، ط: سعید)۔
و فیہ ایضاً: وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، ‌بخلاف ‌ما ‌إذا ‌كان ‌يفضل ‌عليا ‌أو ‌يسب ‌الصحابة ‌فإنه ‌مبتدع لا كافر (ج3، ص46، ط: سعید)۔
وفی الدر المختار: (فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الأصح خانية، وخرج ذوو الأرحام والأم والقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به (ويفتى) في غير الكفء (ج3، ص55-57، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالرب لحاظ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 74497کی تصدیق کریں
0     528
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات