السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میری بہن کا رشتہ آیا ہے ،لڑکا شیعہ ہے،کیا سنی لڑکی شیعہ سے نکاح کرسکتی ہے؟
مذکور شیعہ لڑکا اگر فرقہ اثنا عشریہ سے تعلق رکھتا ہویا وہ مذکور عقائد ونظریات کا حامل ہو مثلاً حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو الٰہ مانتا ہویا حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتا ہو یاحضرت عائشہ رضی اللہ عنھا پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتا ہویا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی صحابیت کا منکر ہویا اس قسم کا کوئی اور مخالف قرآن صریح کفریہ عقیدہ رکھتا ہوتوچونکہ ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ،اس لیے اس کے ساتھ کسی بھی سنی العقیدہ مسلمان لڑکی کا عقدِ نکاح شرعاً جائز نہیں،البتہ اگر کوئی شیعہ لڑکا ان عقائد میں سے کوئی عقیدہ نہ بھی رکھتا ہو تب بھی وہ کسی صحیح العقیدہ سنی لڑکی کا کفو اور جوڑکا نہیں، لہذا سائلہ کی بہن کو مذکور شیعہ لڑکے کے بجائے کسی سنی العقیدہ مسلمان لڑکے کے ساتھ نکاح کرنے کا اہتمام کرنا چاہیئے۔
کمافی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ومنها إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} [البقرة: 221] ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل: {أولئك يدعون إلى النار} [البقرة: 221] لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار؛ لأن الكفر يوجب النار، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما الخ(ج2 ص271 کتاب النکاح ط: سعید)۔
وفی ردالمحتار: أقول: نعم نقل في البزازية عن الخلاصة أن الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما فهو كافر، وإن كان يفضل عليا عليهما فهو مبتدع. (الی قولہ) وقد مر أيضا أن المذهب قبول توبة ساب الرسول - صلى الله عليه وسلم - فكيف ساب الشيخين. والعجب من صاحب البحر حيث تساهل غاية التساهل في الإفتاء بقتله مع قوله: وقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء من ألفاظ التكفير المذكورة في كتب الفتاوى، نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن، ولكن لو تاب تقبل توبته، هذا خلاصة ما حررناه في كتابنا تنبيه الولاة والحكام، وإن أردت الزيادة فارجع إليه واعتمد عليه ففيه الكفاية لذوي الدراية.الخ(ج4 ص237 باب المرتد ط: سعید)۔