السلام علیکم! میں شیعہ لڑکی سےنکاح کرنا چاہتا ہوں ، دونوں کی فیمیلیز بھی راضی ہیں ، سوال یہ ہے کہ کیا سنی مولانا لڑکا لڑکی کا نکاح پڑھا دیں، اورپھر شیعہ مولانا دونوں کا نکاح دوبارہ پڑھا دیں، کیوں کہ دونوں کی فیملیز چاہتی ہیں کہ ان کے(مذہب کے) مولانا نکاح پڑھائیں، تو یہ ممکن ہے کہ دو بار نکاح پڑھایا جائے، اپنے اطمینان کے لئے۔
واضح ہو کہ کسی بھی شیعہ لڑکی کے ساتھ صحیح العقیدہ سنی لڑکے کے نکاح درست ہونے کے لئے سنی مولانا کا نکاح پڑھانا کافی نہیں ، بلکہ اس لڑکی کے بنیادی عقائد و نظریات کا شریعت کے مطابق ہونا بھی ضروری ہے، لہذا مذکور لڑکی اگر درج ذیل عقائد و نظریات مثلا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو الہ مانتی ہو یا حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتی ہویا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتی ہو یا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کی منکر ہو یا اس قسم کا کوئی اور مخالف قرآن کفریہ عقیدہ رکھتی ہو تو وہ اپنے ان کفریہ عقائد کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہوگی ، اس لئے اس کے ساتھ کسی بھی سنی العقیدہ مسلمان کا عقد ِنکاح شرعاً جائز نہیں ، اور یہ نکاح شرعاً منعقد بھی نہ ہوگا ، تاہم اگر مذکور لڑکی ان کفریہ عقائد کی حامل نہ بھی ہو تب بھی وہ کسی صحیح العقیدہ سنی لڑکے کا کفو ء نہیں، لہذا سائل کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ کسی سنی و صحیح العقیدہ لڑکی کو اپنا ازدواجی شریک کار بنانے کا اہتمام کرے ۔
كما في بدائع الصنائع : و منها إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر لقوله تعالى : ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا و لأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر، لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال الخ (كتاب النكاح ، فصل و منها إسلام الرجل الخ، ج ۲، ص 271، ط : سعيد)-
و في رد المحتار تحت (قوله لكن في النهر الخ ) لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة رضي الله عنه أو أنكر صحبة الصديق أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن، ولكن لو تاب تقبل توبته الخ ( مطلب سب الشيخين، ج ٤، ص ٣٧، ط: سعيد)–
و في الفتاوى الهندية : و منها ما يتعلق بالأنبياء عليهم السلام من لم يقر ببعض الأنبياء (إلى قوله ) الرافضي إذا كان يسب الشيخين و يلعنهما و العياذ بالله فهو كافر ( إلى قوله ) و لو قذف عائشة رض بالزنا كفر بالله الخ (كتاب الحدود ، فصل في الجزية ، ج 2 ، ص 264 ، ط : ماجدية )-