السلام علیکم!میرے سسر نے دو شادیاں کی ہیں،میری بیوی سسر کی دوسری بیگم سے ہے،میرے سسر کی پہلی بیوی کے لڑکے اسد کی شادی میرے سسر کی دوسری بیگم کی چھوٹی بہن سے ہوئی، اسد کی بیٹی نجمہ میری بیوی کی خالہ زاد بہن بھی ہےاور باپ شریک بھتیجی بھی کیا میں پہلی بیوی کی موجودگی میں نجمہ سے دوسری شادی کر سکتا ہوں؟والسلام
واضح ہوکہ بیوی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں نجمہ چونکہ سائل کی بیوی کی باپ شریک بھتیجی ہے اور سائل کی بیوی اس کی پھوپھی ہے،جس طرح بیوی کے نکاح میں ہوتے ہوئےحقیقی بھتیجی سے نکاح شرعاً جائز نہیں اسی طرح باپ شریک بھتیجی سے بھی نکاح شرعاً جائز نہیں،لہذا سائل کا اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے مذکورلڑکی کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کمافی صحيح مسلم: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا»اھ(ج2 ص1028 رقم1408 کتاب النکاح ط: دارإحیاء التراث العربی،بیروت)۔
وفی الفتاوى الهندية: (وأما الجمع بين ذوات الأرحام) فإنه لا يجمع بين أختين بنكاح ولا بوطء بملك يمين سواء كانتا أختين من النسب أو من الرضاع هكذا في السراج الوهاج. والأصل أن كل امرأتين لو صورنا إحداهما من أي جانب ذكرا؛ لم يجز النكاح بينهما برضاع أو نسب لم يجز الجمع بينهما هكذا في المحيط. فلا يجوز الجمع بين امرأة وعمتها نسبا أو رضاعا، وخالتها كذلك ونحوها الخ(ج1 ص277 کتاب النکاح ط: ماجدیۃ)۔