نکاح

بیوی کے میکے میں رہنے پر دوسری شادی کرنا

فتوی نمبر :
76800
| تاریخ :
2024-07-23
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بیوی کے میکے میں رہنے پر دوسری شادی کرنا

السلام علیکم! جناب میری شادی کو 15ماہ ہوگئےہیں،میری بیوی بہت زیادہ اپنی امی کے گھر جاتی ہےاور وہاں وہ خوش بھی ہوتی ہےاور میرے گھر رہنے میں خوش نہیں ہوتی،بس اُسے میرے گھر سے جانا ہوتا ہے،مہینے میں آٹھ دن جاتی ہےاور مثلاً اس کا دل وہاں لگتا ہےیہاں نہیں،تو میں یہ فیصلہ لے رہاہوں کہ اس کو میکے میں رکھوں اور میں دوسری شادی کرلوں،تو میرےسسرال والوں نے دو آپشن دیے،یا تو الگ گھر میں رکھو یا پھر رشتہ ختم کرو،پندرہ مہینے شادی کو ہوگئے اور پندرہ مہینے میں سے مشکل سے پانچ مہینے میرے گھر پر رہی ہے،وہ بھی میرے زبردستی کرنے پر ،اب ایک بیٹا بھی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کی بیوی کو چاہیے کہ اپنے شوہر کی نافرمانی سے بچتے ہوئے اپنے گھر کو بسانے کی فکر کرے اور بلاضرورت شوہر کے گھر سے باہر نہ نکلے اور اگراپنے میکے جانا ہو تو شوہر کی اجازت کے بغیر نہ جائے اور جتنے دنوں کی اجازت شوہر کی طرف سے ملے،فقط اتنے دن رہ کر واپس اپنے گھر لوٹ جایا کرے،تاکہ گھر کا ماحول خراب نہ ہو۔
تاہم اگر سائل نے اپنے گھرمیں بیوی کے لیے الگ کمرہ بمع باتھ روم اور کچن کے دیا ہو جس میں وہ اپنا سامان حفاظت سے رکھ سکتی ہو تو ایسی صورت میں سسرال والوں کا الگ گھر یا طلاق کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ،جس سے انہیں احتراز لازم ہے۔
البتہ اگر ہر ممکن کوشش اور سمجھانے کے باوجود بیوی اور اس کےگھر والے اپنی ضد پر مصر ہوں اور آپس کے لڑائی جھگڑو ں اور ناچاقی کی وجہ سے حدود اللہ پر رہتے ہوئےاس رشتہ کو برقرار رکھنا مشکل ہوجائے تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائل اس کو ایک طلاقِ رجعی دے سکتا ہےاور اس صورت میں سائل گناہ گار بھی نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی احکام القرآن للجصاص:وانما یوجہ الحکمان لیعظا الظالم منھما وینکرا علیہ ظلمہ واعلام الحاکم بذلک لیأخذ ھو علی یدہ فان کان الزوج ھو الظالم انکرا علیہ وقالا لہ لا یحل لک ان تؤذیھا لتخلع منک وان کانت ھی الظالمۃ قالا لھا قد حلت لک الفدیۃ وکان فی اخذھا معذورا لما یظھر للحکمین من نشوزھا فاذا جعل کل واحد منھما الی الحکم الی من قبلہ مالہ من التفریق والخلع کانا مع ما ذکرنا من امرھما وکیلین جائز لھما ان یخلعا ان رأیا وان یجمعا ان رأیا ذلک صلاحا فھما فی حال شاھدان وفی حال مصلحان وفی حال آمران بمعروف وناھیان عن منکر ووکیلان فی حال اذا فوض الیھما الجمع والتفریق الخ (ج2 ص193 سورۃ النساء ط: سھیل اکیڈیمی لاھور باکستان)۔
وفی مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمر أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها» . رواه الترمذي(ج2 ص972 کتاب النکاح،باب عشرۃ النساء ط: دارالکتاب الاسلامی،بیروت)۔
وفی الدر المختار: (وإيقاعه مباح) عند العامة لإطلاق الآيات أكمل (وقيل) قائله الكمال (الأصح حظره) (أي منعه) (إلا لحاجة) كريبة وكبر والمذهب الأول كما في البحر(الی قولہ) بل يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة غاية، ومفاده أن لا إثم بمعاشرة من لا تصلي ويجب لو فات الإمساك بالمعروف ويحرم لو بدعيا. الخ(ج3 ص227 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: (ولا يمنعهما من الدخول عليها في كل جمعة، وفي غيرهما من المحارم في كل سنة) لها الخروج ولهم الدخول زيلعي الخ(ج3 ص603 باب النفقۃ ط: سعید)۔
وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق: قالوا الصحيح أنه لا يمنعها من الخروج إلى الوالدين ولا يمنعهما من الدخول عليها في كل جمعة وفي غيرهما من المحارم في كل سنة وإنما يمنعهم من الكينونة عندها وعليه الفتوى كما في الخانية (الی قولہ) وقد استفيد مما ذكرناه أن لها الخروج إلى زيارة الأبوين والمحارم فعلى الصحيح المفتى به تخرج للوالدين في كل جمعة بإذنه وبغير إذنه ولزيارة المحارم في كل سنة مرة بإذنه وبغير إذنه، وأما الخروج للأهل زائدا على ذلك فلها ذلك بإذنه قال في الظهيرية ويجوز للرجل أن يأذن لها في الخروج إلى زيارة الوالدين وتعزيتهما وعيادتهما وزيارة المحارم الخ(ج4 ص212 باب النفقۃ ط: دارالکتاب الاسلامی)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 76800کی تصدیق کریں
0     678
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات