السلام علیکم!میرے بھائی بغیر کی جاب ختم ہو گئی ہے، اور اب وہ کوئی بھی جاب نہیں کرتا جو بھی جاب بتاتے ہیں وہ کبھی کہتا کہ تنخواہ کم ہے ،کبھی کہتا کہ کام مشکل ہے، کبھی کہتا کہ وہ پک اور ڈراپ نہیں دیتے مطلب وہ کا م پرنہیں جاتا، بچوں کی وجہ سے کوئی بہن یا بھائی کچھ مدد کر دیتےہیں مگر کب تک، سب اب یہ کہتے کہ یہ خود تو گھر بیٹھا آرام کرتا ہے تو کیا اسکی مدد کرنی چاہیے؟ اور کیا زکوۃ کے پیسوں سے اس کی مدد کی جا سکتی ہے؟اسلام کی روشنی میں جواب دیں شکریہ
صورت مسؤلہ میں سائلہ کا بھائی جب تندرست وتوانا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ خود کمائی کرے ، اپنے اور اپنے بچوں کے اخراجات اٹھائے، اور بلاضرورت دوسروں سے معاونت طلب کرنے سے اجتناب کرے، البتہ سائلہ کےمذکوربھائی کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا،یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی مالیت کے بقدر نقدی، مال تجارت اور ضرورتِ اصلیہ سے زائد سامان موجود نہ ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو، تو سائلہ یا دیگر رشتہ داروں کا زکوٰۃ کی رقم سے اس کی معاونت کرنا شرعاً درست ہے۔
کما فی الدر المختار: أي مصرف الزكاة (الی قولہ) (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة الخ (باب المصرف، ج 2، ص 339، ط: سعید)۔
کما فی بدائع الصنائع: ويجوز دفع الزكاة إلى من سوى الوالدين والمولودين من الأقارب ومن الإخوة والأخوات وغيرهم الخ (باب ما یرجع الی المودی الیہ، ج 2، ص 50، ط: سعید)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0