کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتیان ِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
1- آج کل اگر سادات کی کفالت دوسرے ذرائع سے ممکن نہ ہو اور ان کو صدقاتِ واجبہ دینے پر ہی حرمت کا فتویٰ ہو تو اس کا شرعا ًذمہ دار کون ہوگا؟
2- اسی طرح سادات کے مسئلہ کے سلسلہ میں ائمہ مجتہدین کے اختلاف کو مدِّنظر رکھتے ہوئےدو دارالافتاؤں سے الگ الگ فتوے جاری ہو جائیں، ایک سادات کو صدقاتِ واجبہ کی حرمت کا فتویٰ دے اور دوسرا گنجائش کے اقوال سے فائدہ اٹھاتے ہوئےحلت کا فتویٰ دے تو آیا حلت کافتویٰ دینے والےدارالافتاء کے فتویٰ پر عمل کیا جاسکتا ہے، جبکہ اکثر دارالافتاؤں کا فتویٰ حرمت کا ہے؟براہِ مہربانی ذرا تفصیلی جواب حوالہ جات کے ساتھ عنایت فرمائیں۔
احناف کےراجح اور مفتیٰ بہ قول کے مطابق سادات کی براہِ راست مالِ زکوٰۃ سے مددشرعاً جائز نہیں، بلکہ سادات کی عظمت واحترام کے پیشِ نظر زکوٰۃ و صدقاتِ واجبہ کے علاوہ دیگر صاف ستھرےاموال سے ان کی مدد کرنے کا حکم ہے، تاہم اگر کسی وجہ سےدیگر اموال میسّر نہ ہوں ،تو ایسی صورت میں مالِ زکوٰۃ سے بھی حیلہ تملیک کے بعدان کے ساتھ تعاون کیا جاسکتا ہے، لہذا سائل کو اس بابت زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔
کما فی الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 112)
" ولا تدفع إلى بني هاشم " لقوله عليه الصلاة والسلام " يا بني هاشم إن الله تعالى حرم عليكم غسالة الناس وأوساخهم وعوضكم منها بخمس الخمس " بخلاف التطوع لأن المال ههنا كالماء يتدنس بإسقاط الفرض أما التطوع فبمنزلة التبرد بالماء.
قال: " وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب ومواليهم " أما هؤلاء فلأنهم ينسبون إلى هاشم بن عبد مناف ونسبة القبيلة إليه وأما مواليهم فلما روي أن مولى لرسول الله صلى الله عليه وسلم سأله أتحل لي الصدقة فقال: " لا أنت مولانا " بخلاف ما إذا أعتق القرشي عبدا نصرانيا حيث تؤخذ منه الجزية ويعتبر حال المعتق لأنه القياس والإلحاق بالمولى بالنص وقد خص الصدقة ".
وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 261)
والحيلة في الجواز في هذه الأربعة أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون لصاحب المال ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب كذا في المحيط.
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0