نکاح

پلاسٹک سرجن کی آمدن اور اسکے بیٹے سے رشتہ کرنا

فتوی نمبر :
77001
| تاریخ :
2024-08-01
معاملات / احکام نکاح / نکاح

پلاسٹک سرجن کی آمدن اور اسکے بیٹے سے رشتہ کرنا

السلام علیکم! میری بیٹی کے لیے ایک رشتہ آیا ہوا ہے، لڑکے کے والد حیات نہیں ہیں، مگر وہ پلاسٹک سرجن تھے اور اس میں ہر طرح کا علاج جو آجکل رائج ہے، کرتے تھے، جس میں چہرے کی شکل اور اعضاء کی تبدیلی شامل ہے، اب بڑا بھائی اور بھابھی بھی یہ کام کرتے ہیں، لڑکا خود کمپیوٹر کا کام کرتا ہے، مگر اُن کی زیادہ کمائی باپ کے ہسپتال کی ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ کمائی حلال ہوتی ہے اور اس جگہ رشتہ کرنا مناسب ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عام حالات میں زیب و زینت یا حسن میں اضافہ کے لئے یا لمبے عرصہ تک حسن برقرار رکھنے کے لئے پلاسٹک سرجری وغیرہ کروانا شرعاً جائز نہیں ، اور اس کام پر ملنے والی اجرت بھی حلال نہ ہوگی، لہٰذا اس سے بہرصورت احتراز لازم ہے، البتہ پیدائشی طور پر کوئی عیب ہو یا بعد میں کسی حادثہ وغیرہ میں جسم میں کوئی عیب پیدا ہوجائے اور وہ ظاہری طور پر بد نما لگ رہا ہو اور اس عیب کو دور کرنے کے لئے پلاسٹک سرجری وغیرہ کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں پلاسٹک سرجری کی گنجائش ہے اور اس پر ملنے والی اجرت بھی حلال ہوگی، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکور کلینک میں دونوں قسم کی سرجری کی جاتی ہو یا مذکور لڑکا اپنی کمائی میں خود مختار ہو تو سائل کے لئے اس جگہ اپنی بیٹی کا رشتہ کرنا اگرچہ درست ہے، البتہ بہتر اور مناسب یہی ہے کہ کسی دوسری مناسب جگہ رشتہ کیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ:{وتعاونوا على البر والتقوى} يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان طاعة لله تعالى; لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى. الخ ( ج 2 ص 381)۔
وفی صحیح البخاری: عن علقمة، قال عبد الله: «لعن الله الواشمات والمستوشمات، والمتنمصات، والمتفلجات للحسن، المغيرات خلق الله تعالى» مالي لا ألعن من لعن النبي صلى الله عليه وسلم، وهو في كتاب الله: {وما آتاكم الرسول فخذوه} [الحشر: 7] اھ ( ج 7 ص 166 )۔
و فی مرقاۃ المفاتیح: فیہ اشارۃ الی ان الحرام ھو المفعول لطلب الحسن اما لو احتاجت الیہ لعلاج او عیب فی السن و نحوہ فلا باس بہ اھ(8/281)-۔
وفی تکملۃ فتح الملھم: و الحاصل ان کل مایفعل فی الجسم من زیادۃ او نقص من اجل الزینۃ بما یجعل الزیادۃ او النقصان مستمراً مع الجسم و بما یبدو منہ انہ کان فی اصل الخلقۃ ھکذا فانہ تلبیس و تغییر منھی عنہ اھ(4/195)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77001کی تصدیق کریں
0     632
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات