السلام علیکم!میرا بھائی پیدا ہوتے ہی میرے چچا کو دے دیا تھاکیونکہ اس کے بیٹے نہیں تھے، اور اس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی، وہ ہم لے آئے ان دونوں نے ایک دوسرے کی ماؤں کا دودھ پی لیا یعنی لڑکی نے میری والدہ کا اور میرے بھائی نے چچی کا، وہ دونوں رضائی بہن بھائی بن گئے اب وہ لڑکی ہماری بہن ہے، ہمارے گھر ہے ،اور ان کا لڑکا اب اسی چچا کی بڑی بیٹی جس نے میری والدہ کا دودھ نہیں پیا اور نا ہی میں نے اس کی والدہ کا دودھ پیا ہے تو کیا ہم دونوں کا آپس میں نکاح ہو جائے گا حالانکہ ہم دونوں کہ چھوٹے بہن بھائیوں نے ایک دوسرے کی ماؤں کا دودھ پیا ہے۔
سائل کےجس بھائی نے اپنی چچی کا دودھ پیا ہے اس کے لئے تو اپنی مذکور چچی کی کسی بھی بیٹی سے نکاح کرنا جائز نہیں، اسی طرح سائل کی جس چچا زاد بیٹی نے سائل کی والدہ کا دودھ پیا ہے اس کے ساتھ سائل یا اس کے دیگر بھائیوں میں سے کسی کا نکاح جائز نہیں، البتہ اس کے علاوہ اگر دیگر بہن بھائیوں نے ایک دوسرے کی والدہ کا دودھ نہ پیا ہو تو ان کا آپس میں نکاح کرنا جائز ہوگا، چنانچہ سائل کے لئے اپنے چچا کی بڑی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا جائز اور درست ہے۔
کما فی الھدایۃ: ويجوز أن يتزوج الرجل بأخت أخيه من الرضاع " لأنه يجوز أن يتزوج بأخت أخيه من النسب الخ(کتاب الرضاع،ج1،ص218،ط: دار احياء التراث العربي)۔
وفی الھندیۃ: وتحل أخت أخيه رضاعا كما تحل نسبا مثل الأخ لأب إذا كانت له أخت من أمه يحل لأخيه من أبيه أن يتزوجها كذا في الكافي(کتاب الرضاع،ج1،ص343،ط:ماجدیہ)۔