نکاح

تجدید نکاح کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
77130
| تاریخ :
2024-08-04
معاملات / احکام نکاح / نکاح

تجدید نکاح کی ایک صورت کا حکم

السلام علیکم! ہمارے درمیان حادثاتی طور پر طلاقِ بائن واقع ہوئی تھی، لیکن ہم نے گھر میں کسی کو مطلع نہیں کیا، ہم میاں بیوی دونوں تجدیدِ نکاح کے لئے رضامند تھے، ہم نے ایک نشست میں، جس میں میرے والد، میری والدہ، میری دادی اور دو بہنوں کی موجودگی میں یہ کہا کہ ہم آپکو تجدیدِ نکاح کا طریقہ پریکٹیکل کر کے دکھاتے ہیں، اسکے بعد میری بیوی نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا کہ میں آپکو اجازت دیتی ہوں کہ آپ مجھے 20 ہزار روپے حق مہر کے عوض اپنے نکاح میں قبول کرلو، جس پر میں نے کہا قبول ہے، اس کے بعد میں نے اپنی بیوی کو مخاطب کرکے کہا کہ میں آپکو حق مہر 20 ہزار روپے کے عوض اپنے نکاح میں لیتا ہوں، تو اس نے کہا مجھے قبول ہے۔
کیا ہمارے نکاح کی تجدید ہوگئی ہے یا نہیں ؟ گواہ بھی موجود تھے اور ایجاب وقبول بھی ہوا ، فقط کسی کو طلاقِ بائن کے وقوع کا نہیں بتایا گیا۔ رہنمائی فرمائیں۔والسلام جزاک اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر دومسلمان عاقل مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی کے ساتھ مذاق میں بھی نکاح یعنی ایجاب و قبول کرلیاجائے تو اس طرح نکاح منعقد ہوجاتا ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر میاں بیوی نے بدنامی سے بچنے کے لئے گھر والوں کے سامنے ایجاب و قبول کرتے ہوئے ، حق مہر بھی مقرر کرلیا ہو تو ایسی صورت میں دونوں کے درمیان تجدیدِ نکاح منعقد ہوچکا ہے، اب دونوں ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں، البتہ شوہر کو آئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، بشرطیکہ اس سے قبل صرف ایک طلاق دی ہو، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفي سنن الترمذي: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة" اھ ( ج 3 ص 482 )۔
وفی الدر المختار:(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معًا) على الأصح الخ ( ج 3 ص 21 ط: سعید)۔
وفی مجمع الانھر: (أو ابني العاقدين) وهذا ظاهر الرواية. وفي الخانية نقل عن المنتقى أنه لا يصح (أو ابني أحدهما) لوجود أهلية التحمل (ولا يظهر) ثبوت العقد عند الحكام (بشهادتهما عند دعوى القريب) وإنكار أحد المتعاقدين لنفع القريب فإن كان الابنان منهما لا تقبل لهما وإن كانا من أحدهما لا تقبل له وتقبل عليه ولو ترك لكان أولى؛ لأنها مسألة الشهادة قد ذكرت في موضعها فلا يخلو عن تكرار.(يزوج صغيرته فزوجها عند رجل) ، أو امرأتين ولو كان المأمور امرأة شرط حضور رجل وامرأة أخرى (إن كان الأب حاضرا) لأنه إذا كان حاضرا انتقل عبارة الوكيل إلى الأب فصار كأنه عاقد والوكيل مع ذلك الرجل شاهدان وهو المعتمد كما في المنح.وفي النهاية خلافه وهو إمكان جعل الأب شاهدا من غير نقل عبارة الوكيل إليه.وفي البحر ولم أر من نبه على ثمرة هذا الاختلاف لكن في المنح تفصيل فليراجع (وإلا) أي وإن لم يكن الأب حاضرا (لا) يصح؛ لأنه لم يكن أن يجعل مباشرا لاختلاف المجلس. الخ ( ج 1 ص 321 )۔
وفی بدائع الصنائع: الجد ليس من شرائط جواز النكاح حتى يجوز نكاح الهازل؛ لأن الشرع جعل الجد، والهزل في باب النكاح سواء. قال النبي صلى الله عليه وسلم :‌ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد الطلاق والعتاق والنكاح الخ ( ج 2 ص 310 )۔
وفی الدر المختار:(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك(و) يقول الآخر (تزوجت).الخ (ج 3 ص 10 )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77130کی تصدیق کریں
0     1006
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات