نکاح

زانی اور مزنیہ کی اولادوں کا آپس میں نکاح ہوسکتاہے؟

فتوی نمبر :
77254
| تاریخ :
2024-08-08
معاملات / احکام نکاح / نکاح

زانی اور مزنیہ کی اولادوں کا آپس میں نکاح ہوسکتاہے؟

السلام علیکم ! کیا زانی اپنی بیٹی کا نکاح مزنیہ کے بیٹے سے کر سکتا ہے جبکہ مزنیہ کو یقین ہے کہ یہ بیٹا اسی زانی کا ہے، جس سے وہ اپنی بیٹی کا نکاح کرنا چاہتا ہے، کیونکہ زانی کے تعلقات مزنیہ کی شادی کے بعد بھی آپسں میں رہ چکے ہیں،کیا یہ نکاح کرنا جائز ہے ؟ مزنیہ کیلئے شوہر کا کیا حکم ہے؟ یبٹے کیلئے باپ کا کیا حکم ہے؟ مہربانی فرماکررہنمائی فرمائیں، ۔آپ کی بڑی نوازش ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ زنا جیسے قبیح عمل کے ارتکاب سے صرف زانی اور مزنیہ پرایک دوسرے کے اصول وفروع حرام ہوتے ہیں، دونوں کے اصول و فروع کا باہمی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ نکاح حرام نہیں ہوتا، لہذا صورت مسؤلہ میں اگر مزنیہ کا شوہر اپنے اس بیٹے کے ثبوتِ نسب سے انکار نہیں کرتا تو ایسی صورت میں وہ اسی سے ثابت النسب ہوگا اور زانی کی حقیقی بیٹی کے ساتھ اس کا نکاح بھی جائز ہوگا، تاہم اگر مذکور مرد و عورت دونوں کو یقین ہو کہ یہ لڑکا ولد الزنا ہے اور اسی شخص کے نطفے سے ہے تو ایسی صورت میں اس شخص کی بیٹی کے ساتھ اس کے نکاح کرنے سے احتیاط ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح البخاری: الولد للفراش وللعاهر الحجر الخ (كتاب الفرائض ج 2 ص 999 ط: قدیمی کتب خانہ)۔
وفی الہندیۃ: قال أصحابنا: لثبوت النسب ثلاث مراتب (الأولى) النكاح الصحيح وما هو في معناه من النكاح الفاسد: والحكم فيه أنه يثبت النسب من غير عودة ولا ينتفي بمجرد النفي وإنما ينتفي باللعان، فإن كانا ممن لا لعان بينهما لا ينتفي نسب الولد كذا في المحيط اھ( الباب الخامس عشر في ثبوت النسب، ج1، ص 536، ط؛ ماجدیۃ)۔
وفی رد المحتار: (قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها.الخ ( ج 3 ص 32 ط: سعید )۔
وفی مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر: (‌و) ‌يحرم (‌أخته) ‌لأب ‌وأم، ‌أو ‌لأحدهما ‌لقوله تعالى {وأخواتكم} [النساء: 23] (باب المحرمات، ج1، ص 323، ط: دار احیاء التراث العربي)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالرب لحاظ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77254کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات