میری عمر 32 سال ہونے والی ہے، کافی رشتے ڈھونڈے ، سالوں تک کہیں بات نہیں بنی، پچھلے دنوں جان پہچان کے لوگوں میں سے ایک پروپوزل آیا، لڑکا دیندار ، نمازی ، بہترین کردار کا مالک ہے، میری عمر سے بھی میل کھاتا ہے، رشتہ خود لے کر آتا ہے، جلدی نکاح کرنا چاہتا ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ وہ شادی شدہ ہے، مجھے اپنی دوسری بیوی بنانا چاہتا ہے، الگ گھر میں رکھے گا، مکمل انصاف پر یقین رکھتا ہےاور بہت خلوص والا انسان ہے، میرا دل مطمئن ہے، لیکن میرے ماں باپ اس کے لئے راضی نہیں ہورہے، وہ اور تلاش کرنا چاہتے ہیں اور میری عمر گزر رہی ہے، میرا جھکاؤ اس شخص ہی کی طرف ہے، جس کو ہم جانتے ہیں اور اس کے ایمان سے واقف ہیں، لڑکے کو پہلی بیوی سے کوئی مسائل درپیش نہیں، صرف سنت کی خاطر دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہے، حضرت میں بہت پریشان ہوں کہ میرے ماں باپ ایک دیندار انسان کو چھوڑ کر صرف اس بات پر کہ دوسری شادی ہے اسکی اور میں کنواری ہوں، مجھے مزید محروم کررہے ہیں ایک ازدواجی اچھی زندگی گزارنے سے، آ پکی رہنمائی کی طالب ہوں کہ اس حالات میں ماں باپ کا کیا فرض بنتا ہے اولاد کی خاطر۔
مذکور لڑکا اگر دیندار اور با اخلاق ہو اور دونوں بیویوں کے درمیان عدل و انصاف اور برابری کرنے نان نفقہ، حق مہر اور دیگر حقوق کی ادائیگی پر قادر ہو تو ایسی صورت میں والدین کو چاہیے کہ صرف دوسری شادی کی وجہ سے بلا وجہ نکاح میں تاخیر سے کام نہ لیں، بلکہ جلد از جلد استخارہ وغیرہ کرنے کے بعد اپنی بیٹی کو عزت کے ساتھ رخصت کردیں، تاکہ مستقبل کی زندگی پاکدامنی کے ساتھ بسر ہوسکے، تاہم اگر سمجھانے کے باوجود سائلہ کے والدین اس رشتہ کے لئے راضی نہ ہوں تو سائلہ کو چاہیے کہ بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اچھے جیون ساتھی کی دعا مسلسل کرتی رہے، ان شاء اللہ امید ہے کہ اچھا رشتہ مل جائے گا۔
کما فی جامع الترمذی: عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له: يا علي، ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا أتت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفئا. الخ ( ج 2 ص 378 )۔
وفی مشکوٰۃ المصابیح: و عن أبي سعيد و ابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوّجه، فإن بلغ ولم يزوّجه فأصاب إثماً فإنما إثمه على أبيه اھ ( ج 2 ص 939 )۔