کیا میاں بیوی کے رشتے میں صلح کی صورت میں جھوٹ بولنا جائز ہے؟ جب بات طلاق کی نوبت تک آجائے، میرا سوال ہے اگر بیوی اس رشتے کو بچانے کے لیے جھوٹی قسم اٹھا لے قرآن کی تو کیا وہ گناہ گار ہوگی ؟ اور اگر وہ ایسا کرے کہ لوگ اس سے قسم اٹھوائیں پر وہ حال کی اٹھا لے اُسکی ماضی کی نیت نہ ہو تو کیا پھر بھی گناہ گار ہوگی؟مثال کے طور پرعورت نے اپنے رشتے کو بچانے کے لیے کوئی چیز اٹھا لی ہے وہ ہوگیا ماضی پر اُسکی نیت جھوٹ نہیں رشتے بچنا تھا، اور اب اُسکے شوہر کو پتا چلتا ہے کہ یہ چیز اُسکی بیوی نے کی ہے پر شوہر بھی ایک الزام کی صورت میں کہے اسکو بھی معلوم نہ ہو پر گھر والے زبردستی قرآن اٹھانے کا بولیں اب اگر بیوی اس نیت سے اٹھا لے کہ وہ چیز میرے پاس پہلے تھی اب نہیں تو کیا یہ قسم جھوٹی ہے یا سچی ؟عورت خود یہ بات مان رہی ہے کہ میں نے غلط نیت سے یہ کام نہیں کیا تھا بلکہ رشتے خراب نہ کرنے پر اس وجہ سے کیا تھا، کیوں کہ میاں بیوی میں پہلے ہی گھریلو جھگڑے چل رہے ہیں اور میں یہ رشتے ختم کرنا نہیں چاہتی۔
سائلہ کا سوال پوری طرح واضح نہیں تاہم بیوی کے لئے صریح جھوٹ بولنا اور جھوٹی قسم کھانا شرعاً جائز نہیں، اور اگر اس نے ایسا کرلیا ہو تو اس پر اسے توبہ واستغفار اور آئندہ کے لئے جھوٹ بولنے اور جھوٹی قسمیں کھانے سے اجتناب لازم ہے، تاہم میاں بیوی کے رشتے کو بچانے کے لئے ذو معنی الفاظ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
کما فی صحیح مسلم: حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ، اللَّاتِي بَايَعْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: «لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ، وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَمْ أَسْمَعْ يُرَخَّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ كَذِبٌ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: الْحَرْبُ، وَالْإِصْلَاحُ بَيْنَ النَّاسِ، وَحَدِيثُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا (4/2011 بَابُ تَحْرِيمِ الْكَذِبِ وَبَيَانِ مَا يُبَاحُ مِنْهُ ط دار إحياء التراث العربي بيروت)۔
وفی الدرالمختار: الكذب مباح لإحياء حقه ودفع الظلم عن نفسه والمراد التعريض لأن عين الكذب حرام الخ (6/427 فصل فی البیع کتاب الحظر والاباحۃ ط سعید)۔
بیٹے کا والد سے معافی نہ مانگنے کے باوجود والد کے معاف کرنے سے بیٹا گناہ سے بری ہوگا؟
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0اسٹوڈنٹ لانے پر یونیورسٹی سے کمیشن لینا-یونیورسٹی کا امتحان لیے بغیر, فیس لے کر سند جاری کرنا
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0یوٹیوب چینل پر کسی عالمِ دین کا درس سن کر, اسے استاد کہہ کر دوسروں اس کا درس پڑھانا
یونیکوڈ جھوٹ اور فریب 0