السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کے کیا مرد سالی کی بیٹی سے شادی کرسکتا ہے ؟
واضح ہو کہ مرد کیلئے بیک وقت دو (2) محارم (خالہ اور بھانجی) کو ایک نکاح میں جمع کرنا شرعاً جائز نہیں، لہذا جب تک بیوی نکاح میں ہو ،اس وقت تک شوہر کا اپنی سالی کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز نہ ہوگا، تاہم اگر بیوی وفات پا جائے یا اسے طلاق دیدے اور اسکی عدت بھی گزر جائے تو ایسی صورت میں اپنی سالی کی بیٹی سے نکاح کرنا شرعاً جائز اوردرست ہوگا۔
کما فی صحیح مسلم: عن أبي هريرة، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا تنكح العمة على بنت الأخ، ولا ابنة الأخت على الخالة» (2/1028)
وفی الدر المختار: (و) حرم (الجمع) بين المحارم (نكاحا) أي عقدا صحيحا (وعدة ولو من طلاق بائن، و) حرم الجمع (وطء بملك يمين بين امرأتين أيتهما فرضت ذكرا لم تحل للأخرى) أبدا لحديث مسلم «لا تنكح المرأة على عمتها» وهو مشهور يصلح مخصصا للكتاب الخ (کتاب النکاح ج 3 صـ 38 ط: سعید)
وفی رد المحتار: تحت (قوله: أيتهما فرضت إلخ) أي أية واحدة منهما فرضت ذكرا لم يحل للأخرى كالجمع بين المرأة وعمتها أو خالتها، والجمع بين الأم والبنت نسبا أو رضاعا، وكالجمع بين عمتين أو خالتين كأن يتزوج كل من رجلين أم الآخر، فيولد لكل منهما بنت فيكون كل من البنتين عمة الأخرى، أو يتزوج كل منهما بنت الآخر ويولد لهما بنتان، فكل من البنتين خالة الأخرى كما في البحر اھ (کتاب النکاح ج 3 صـ 38 ط: سعید)