کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ "زید" جو کہ پہلے سے شادی شدہ ہے، اس کا ایک بیٹا ہے "عمرو" اور "سلمی" جس کا خاوند موجود ہے، اس کی ایک بیٹی ہے "ہندہ" جس کا والد معلوم نہیں کہ کون ہے، یعنی مشکوک نسب ہے(کہ آیا زید اس کا والد ہے یا سلمیٰ کا شوہر اس کا والد ہے) اب زید اور سلمیٰ نے آپس میں زنا کیا ، جس کے نتیجے میں ایک بیٹا پیدا ہوا "خالد"
اب سوال یہ ہے کہ زید کا جو بیٹا ہے "عمرو" اس کا سلمیٰ کی بیٹی "ہندہ" جو کہ مشکوک ہے، جس کا والد معلوم نہیں کہ کون ہے، ان دونوں کا آپس میں نکاح کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
مزید وضاحت! سلمیٰ نے شادی ہوجانے کے بعد زید سے زنا کیا تھا۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃً مذکور عورت نے شادی ہوجانے کے بعد زنا کا ارتکاب کیا ہو تو اس کی وجہ سے مذکور عورت اور زید دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کریں اور آئندہ اس قسم کے حرام کاموں سے اجتناب کریں، جبکہ مذکور بچی مسماۃ ہندہ کا نسب اپنے والد سے ثابت ہوگا، زید سے نہ ہوگا، الا یہ کہ سلمیٰ کا خاوند ہندہ کے نسب سے انکار کردے، جبکہ زنا کرنے کی صورت میں زانی کے اصول و فروع مزنیہ پر اور مزنیہ کے اصول و فروع زانی پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتے ہیں ان کا آپس میں نکاح شرعاً جائز نہیں، البتہ ان دونوں کے اصول و فروع آپس میں ایک دوسرے پر حرام نہیں ہوتے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں زید کے بیٹے مسمیٰ عمرو کا نکاح مسماۃ ہندہ کے ساتھ شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی ممانعت نہیں۔
کما فی صحیح البخاری: الولد للفراش وللعاهر الحجر الخ (كتاب الفرائض ج 2 ص 999 ط: قدیمی کتب خانہ)۔
وفی البحر الرائق: قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ تعالی: ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. الخ ( ج 3 ص 108 )۔
وفی رد المحتار: (قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها.الخ ( ج 3 ص 32 )۔