نکاح

کورٹ میرج اور اس سے پیدا ہونے والے بچہ کا حکم

فتوی نمبر :
77419
| تاریخ :
2024-08-15
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کورٹ میرج اور اس سے پیدا ہونے والے بچہ کا حکم

میرا نام سید محمد عظیم علی بن سید امجد علی ہے، میں فتویٰ لینا چاہتا ہوں، میں نے چار سال پہلے کورٹ میرج کی تھی، جس میں ایک قاضی اور دو وکیل تھے، اور وہی گواہ تھے، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا یہ نکاح اسلامی طریقے سے ہوگیا ہے؟ اس پر لڑکی کے والد اور بھائی ولی کے طور پر موجود نہیں تھے(لیکن وہ ابھی اس نکاح سے راضی ہیں) میں سید عظیم کی والدہ راضی نہیں ہیں اور والد صاحب راضی نہیں ہیں، والدہ اور ماموں اس نکاح کو تسلیم نہیں کررہے، لڑکی اور میرے خاندان کا مالی لحاظ سے کوئی اتنا فرق نہیں، لڑکی کو چار ہفتے ہوچکے ہیں حاملہ ہوئے، میں لڑکا میری والدہ اور ماموں کہتے ہیں کہ بچہ گرا دو اور مجھے اس چیز کا ڈر ہے کہ میں قیامت کے دن اس کام کو انجام دینے سے پکڑا نہ جاؤں، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا یہ بچہ جائز ہے یا نہیں؟ میں نے یہ نکاح اس لئے کیا تھا کہ چار سال میں اگر اس سے ایسی بات کرتا رہتا تو یہ حرام کے زمرے میں آتا، لیکن اب میری والدہ اس نکاح کو تسلیم نہیں کر رہی اور کہہ رہی ہیں کہ اس بچہ کو گرا دو، مجھے ان سوالات کے جوابات جلد سے جلد چاہیے، ورنہ میں کسی بڑے گناہ میں مبتلا نہ ہوجاؤں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا والدین کی اجازت اور رضامندی کے بغیر از خود اپنا نکاح کرنا بڑی بےشرمی اور جسارت پر مبنی عمل ہے، شریف خاندانوں میں اس طرح نکاح کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے اور چونکہ اس طرح چھپ کر کیا جانے والا نکاح والدین کی دعاؤں سے خالی ہوتا ہے اس لیےاکثر اوقات نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے،لہذا سائل کا بھی اس طرح چھپ کر نکاح کرنا مناسب اور درست طریقہ نہیں تھا، جس سے آئندہ کے لئے اجتناب لازم ہے، تاہم اگر مجلس نکاح میں سائل کی بیوی یا اس کی طرف سے مقرر کردہ وکیل موجود تھا اور نکاح باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ساتھ ہوا تھا اور لڑکا لڑکی کا ہم پلہ تھا تو یہ نکاح درست منعقد ہوچکا،لہذا اس نکاح کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بچہ کا نسب سائل سے ثابت ہوگا، اس لیے بلاعذر شرعی صرف ماموں اور والدین کے کہنے پر اس حمل کو ضا ئع نہ کیا جائے، بلکہ سائل کو چاہیے کہ والدین اور ماموں کو کسی مناسب طریقہ سے حکمت وبصیرت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرے، تاکہ آگے کی زندگی خوشگواری کے ساتھ بسر ہوسکے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح البخاری: عن عائشة رضي الله عنها، قالت: كان عتبة بن أبي وقاص، عهد إلى أخيه سعد بن أبي وقاص أن ابن وليدة زمعة مني فاقبضه، قالت: فلما كان عام الفتح أخذه سعد بن أبي وقاص وقال: ابن أخي قد عهد إلي فيه، فقام عبد بن زمعة، فقال: أخي، وابن وليدة أبي، ولد على فراشه، فتساوقا إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال سعد: يا رسول الله، ابن أخي كان قد عهد إلي فيه، فقال عبد بن زمعة: أخي، وابن وليدة أبي، ولد على فراشه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "هو لك يا عبد بن زمعة"، ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم: "الولد للفراش وللعاهر الحجر"ثم قال لسودة بنت زمعة - زوج النبي صلى الله عليه وسلم "احتجبي منه" لما رأى من شبهه بعتبة فما رآها حتى لقي الله(رقم الحدیث2053،ج3،ص54،ط: دار طوق النجاة)۔
و فی مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر: (وكذا) يصح العقد (لو زوج الأب بالغة عند رجل) واحد (إن حضرت) البالغة (صح) ؛ لأنه إذا حضرت صارت كأنها عاقدة والأب وذلك الرجل شاهدان (وإلا فلا) يصح الخ(ج1،ص322،ط: دار إحياء التراث العربي)۔
وفی فتح القدیر: فصل في الكفاءة (الكفاءة في النكاح معتبرة) قال صلى الله عليه وسلم "ألا لا يزوج النساء إلا الأولياء، ولا يزوجن إلا من الأكفاء" ولأن انتظام المصالح بين المتكافئين عادة، لأن الشريفة تأبى أن تكون مستفرشة للخسيس فلا بد من اعتبارها، بخلاف جانبها؛ لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش (وإذا زوجت المرأة نفسها من غير كفء فللأولياء أن يفرقوا بينهما) دفعا لضرر العار عن أنفسهم(ج3،ص291،ط: دار الفكر)۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: جعل المرأة عقيماً ، بمعالجة تمنع الإنجاب نهائياً . وقد صرح الفقهاء بأنه يحرم استعمال ما يقطع الحبل من أصله ، لأنه كالوأد، وذلك إلا إذا كانت هناك ضرورة ملجئة كانتقال مرض خطير بالوراثة إلى الأولاد والأحفاد (الی قولہ) أما ما يبطئ الحبل مدة ، ولا يقطعه من أصله ، فلا يحرم ، بل إن كان لعذر كتربية ولد،لم يكره أيضاً، وإلا كره عند الشافعية (ج3،ص558،ط:حقانیہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77419کی تصدیق کریں
0     1018
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات