میں ایک صاحب کے ساتھ 25 سالوں سے ملازمت کرتا ہوں ،اور میں 58 لاکھ کا مقروض ہوں جو کہ مانگ رہے ہیں ،ہمارا ایک گھر ہے وہ بھائیوں کے ساتھ شریک ہے ،میری والدہ اکثر بیمار رہتی ہے مہینے میں 15 سے 20 ہزار روپےکا دوائیاں آتی ہیں ،اب میرے بیٹے کی شادی ہے میں نے اپنے صاحب سے لون مانگا لیکن وہ جو لون دیتا ہے اس سے میری ضروریات پورا نہیں ہوتی، وہ کم دے رہا ہے ،آیا وہ زکوۃ کی مد میں میرے ساتھ تعاون کر سکتا ہے کہ نہیں؟ اگر کر سکتا ہے تو کتنی تک زکوۃ مجھے دے سکتا ہے؟ شریعت اس بارے میں کیا حکم صادر کرتی ہے؟
سائل اگر واقعۃ اٹھاون(58) لاکھ کا مقروض ہو اور قرض کے یہ رقم منہا کرنے کے بعد اس کی ملکیت میں بقدر نصاب ،ساڑھے سات تولہ سونا ،یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے بقدر کوئی اور قابل زکوۃ اثاثہ موجود نہ ہو، تو ایسی صورت میں سائل کے مالک کیلئے زکوۃ کی مد میں سائل کے ساتھ تعاون کرنا اور سائل کا وہ رقم اپنے استعمال میں لانا ہر دو امور شرعا جائز وہ درست ہے،اور ایسا کرنے سے مالک کی زکوۃ بھی ادا ہو جائیگی، جبکہ مستحق کی ضرورت کو ملحوظ رکھ کر مالک جتنی زکوۃ کی رقم اسے دینا چاہے اس کا اسے اختیار ہے، البتہ کسی مستحق کو زکاۃ کی بلا ضرورت اتنی رقم دینا کہ جس سے وہ خود صاحب نصاب بن جائے مکروہ ہے،تاہم شادی کے نام پر جو غیر ضروری اور غیر شرعی رسوم اور رواج مروج ہے ،انہیں ضروریات میں شامل کر کے انہیں پورا کرنے کے لیے مخیر حضرات سے زکاۃوغیرہ کی مد میں معاونت طلب کرنا قطعامناسب نہیں ،بلکہ یہ اصل مستحق زکوۃ اور ضرورت مند لوگوں کی حق تلفی کا ذریعہ بنتا ہے، اس لئے اس سے اسے احتراز چاہیئے۔
کما قال اللہ تعالی: إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡعَٰمِلِينَ عَلَيۡهَا وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَٱلۡغَٰرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۖ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ الایۃ(التوبہ،آیۃ60)۔
وفی الھندیۃ: (ومنها الغارم) وهو من لزمه دين، ولا يملك نصابا فاضلا عن دينه أو كان له مال على الناس لا يمكنه أخذه كذا في التبيين. والدفع إلى من عليه الدين أولى من الدفع إلى الفقير كذا في المضمرات الخ(1 /188)۔
وفی الدر المختار: (وكره إعطاء فقير نصابا) أو أكثر (إلا إذا كان) المدفوع إليه (مديونا أو) كان (صاحب عيال) بحيث (لو فرقه عليهم لا يخص كلا) أو لا يفضل بعد دينه (نصاب) فلا يكره فتح الخ(2 /353)۔
وفی رد المحتار:تحت (قوله: وكره إعطاء فقير نصابا أو أكثر) وعن أبي يوسف لا بأس بإعطاء قدر النصاب وكره الأكثر؛ لأن جزءا من النصاب مستحق لحاجته للحال والباقي دونه معراج وبه ظهر وجه ما في الظهيرية وغيرها عن هشام قال: سألت أبا يوسف عن رجل له مائة وتسعة وتسعون درهما فتصدق عليه بدرهمين قال: يأخذ واحدا ويرد واحدا الخ(2 /353)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0