کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ! اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون مسماۃ ممتاز زری نےاپنے بھانجے سلمان کو مدت رضاعت میں دودھ پلایا، اب ممتاز زری کے بیٹے مسمی کاشف کا نکاح مذکور رضاعی بیٹے سلمان کی چھوٹی بہن عظمی سے ہوسکتا ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں اگر مسماۃ ممتاز زری نے اپنی مذکور بھانجی کو دودھ نہ پلا یا ہو اور نہ ہی مسمی کاشف نے اپنی مذکور ممانی کا دودھ پیا ہو تو ان دونوں کا آپس میں نکاح شرعاً جائز اور درست ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جاتی ہو۔
کمافی الدر المختار:(هو) عند الفقهاء (عقد يفيد ملك المتعة) أي حل استمتاع الرجل من امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي اھ (ج3،ص3-4 ط:سعید)۔
وفیہ ایضاً: (وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر (و) كذا (نسبا) بأن يكون لأخيه لأبيه أخت لأم، فهو متصل بهما لا بأحدهما للزوم التكرار كما لا يخفى اھ (ج3،ص3-4 ط:سعید)۔