نکاح

ولی کی اجاز ت کے بغیر کیے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
77795
| تاریخ :
2024-09-01
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ولی کی اجاز ت کے بغیر کیے ہوئے نکاح کا حکم

پانچ سال پہلے ہمارے گھر والوں نے ہمارا رشتہ فکس کیا تھا،اور یہی بات طے ہوئی کہ ہم پانچ سال بعد شادی کریں گے،ہمارا ملنا رشتہ ہوتے ہی ہوگیا تھا،میرا ان کے گھر بھی بہت آنا جانا تھا،عید پر ،دعوتوں پر،میں نے اس سے پسند کی شادی کی ہے اور ایک اور لڑکی بھی ہے جس کو میں پسند کرتا ہوں، جس کا میری پہلی بیوی کو پتہ ہے،شروع سے اس کے گھر میں یہ بات کی تھی کہ میں دو شادی کرونگا تو ان کے گھر والے راضی نہیں تھے ،تو ہم نے سوچا کہ کورٹ میرج کرتے ہیں اسلامی طریقہ سے،پھر ہم نے رضامندی سے کورٹ میرج کرلی،جب نکاح ہوگیا تو ہم نے تنہائی میں بھی ملنا شروع کردیا،پھر میں نے پہلی بیوی سے پوچھا کہ میں نے دوسرا نکاح بھی کرلیا،اب جب شادی کا وقت آیا ،تو ہم نے راضی کرنے لئے گھر میں نکاح کا بتایا ،تو ان کے گھر والے کہتے ہیں کہ نکاح کا ہم فتوی لیں گے کہ یہ نکاح ہوا ہے یا نہیں ؟اگر یہ نکاح ہوگیا ہے تو ہم رخصتی پر جائیں گے، ورنہ رشتہ ختم کردیں گے، ہم دونوں حنفی مسلک کو فالو کرتے ہیں اور مال ودولت کے حساب سے میرے گھر کی حالت اس سے بہتر ہے، الٹا میں نے ان کی کئی بار مدد کی ہے ،یہ بات اس لئےبول رہا ہو کہ حنفی مسلک میں برابری بھی دیکھی جاتی ہے ،لڑکی کے گھر والوں کو میری ذات سے اور مجھ سے کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہے، وہ تو الٹا میری تعریف کرتے ہیں،بس یہی کہتے ہیں کہ تم ایک شادی کرلو تو ہم بہت خوشی کے ساتھ راضی ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عاقل بالغ اولاد کا اپنے والدین اور قریبی اولیاء کی اجازت کے بغیر کورٹ میرج کرنا بڑی جسارت اور بے شرمی پر مبنی عمل ہے ، معزز خاندانوں میں اس طرح کے نکاح کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے اور عموماً اس طرح کا نکاح چونکہ والدین کی دعاؤں سے خالی ہوتا ہے ،اس لئے اکثر اوقات نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے ۔
لہذا سائل اور مذکور لڑکی کا اپنےاولیاء کی اجازت و رضامندی کے بغیر کورٹ میرج کرلینا انتہائی نامناسب طرزِ عمل تھا ، جس پر انہیں اپنے والدین سے معافی مانگنی چاہیے اور آئندہ دوبارہ اس قسم کے اقدامات سے احتراز کرنا چاہئیے۔
تاہم اگر یہ نکاح باقاعدہ شرعی گواہوں کی موجودگی میں ، مہرِمثل کے ساتھ کفوء میں ہوا ہو تو شرعاً یہ نکاح درست منعقد ہوچکا ہے،چنانچہ دونوں ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح ساتھ رہ سکتے ہیں،لہذا نکاح ہوجانے کے بعداب لڑکی کے والدین یا دیگر رشتہ داروں کو اس کی رخصتی میں رکاوٹ بننے سے احترازکرنا چاہئیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار : فنفذ نکاح حرۃ مکفۃ بلا رضا (ولی) و الاصل ان کل من تصرف فی مالہ تصرف فی نفسہ۔(56/3 کتاب النکاح ط: سعید)۔
وفی فتح القدیر: و ینعقد نکاح الحرۃ العاقلۃ البالغۃ برضاھا و ان لم یعقد علیھا ولی بکراً او ثیبا (الی قولہ) انہ لایجوز فی غیر الکفوء۔(157/3 کتاب النکاح)۔
وفی الھدایہ: ولاینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین اور جل وامر اتین عدولا کانوا اوغیر عدول او محدودین فی القذف قالﷺ اعلم ان الشھادہ شرط فی باب النکاح الخ (ج1 ص185 کتاب النکاح ط: دارإحیاء التراث العربی)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77795کی تصدیق کریں
0     779
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات