کیا فرماتےہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نکاح ہوجانے کے بعد اگر رخصتی میں تاخیر ہو،تو کیا اس تاخیر کی وجہ سے نکاح متاثر ہوجاتا ہے؟ اگر نہیں ہوتا تو نکاح اور رخصتی کے درمیان اس گیپ کی کوئی مقدار متعین ہے،کہ کتنی تاخیر کی گنجائش ہے؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت کرکے عند اللہ ماجور ہوں۔
رخصتی میں تاخیر کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا،مگر بلا وجہ رخصتی میں تاخیر بہتر نہیں،بلکہ بعض دفعہ کئی ایک مفاسد کا ذریعہ بنتی ہے۔
کما فی صحیح لمسلم: عن عائشة رضی اللہ عنھا ان النبی ﷺ تزوجھا وھی بنت سبع سنین وزفت الیه وھی تسع سنین ولعبھا معھا ومات عنھا وھی بنت ثمانی عشرة اھ (2/278)۔