نکاح

بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
77825
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کا حکم

کیا فرماتےہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے چچا زاد بھائی نے میری بہن کا رشتہ مانگا ہے،لیکن میری والدہ کا کہنا ہے کہ میں نے اس لڑکے کے بڑے بھائی کو اس کے بچپن میں دودھ پلایا ہے اور میری والدہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ مجھے شک ہے کہ شاید میں نے اس لڑکے کو بھی دودھ پلایا ہے،لیکن غالب گمان یہ ہے کہ میں نے اس لڑکے کو دودھ نہیں پلایا ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا میری بہن کا نکاح اس لڑکے کے ساتھ جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کی والدہ نے جس لڑکے کو دودھ پلایا ہے،اس کے ساتھ تو سائل کی کسی بھی بہن کا نکاح جائز نہیں،البتہ اس کے دیگر بھائیوں کے ساتھ جن کو دودھ نہیں پلایا سائل کی بہن کا نکاح جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی رد المحتار: وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك اھ(3/212)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 77825کی تصدیق کریں
0     1007
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات