کیا فرماتےہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسماۃ فاطمہ کی بیٹی نے مسماۃ آمنہ کا دودھ پی لیا تھا،اب مذکور لڑکی مسماۃ آمنہ کے بڑے بیٹے حسین علی کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہے؟ان دونوں کا آپس میں نکاح کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟جواب دیکر مشکور فرمائیں۔
مسماۃ فاطمہ کی جس بیٹی نے مسماۃ آمنہ کا دودھ پیا ہے،وہ آمنہ کے تمام بیٹوں کیلئے رضاعی بہن بن چکی ہے،رضاعی بہن کے ساتھ نکاح کرنا اس طرح حرام ہے،جس طرح حقیقی بہن کے ساتھ نکاح حرام ہوتا ہے،اس لئے فاطمہ کی مذکور بیٹی کا نکاح آمنہ کے کسی بھی بیٹے سے ناجائز اور حرام ہے،جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: (ولا حل بين رضيعي امرأة) لكونهما أخوين وإن اختلف الزمن والأب (ولا) حل (بين الرضيعة وولد مرضعتها) أي التي أرضعتها (وولد ولدها) اھ(3/217)۔