نکاح

والدین کا بیٹی کی مرضی کے خلاف شادی کرنا

فتوی نمبر :
78077
| تاریخ :
2024-09-15
معاملات / احکام نکاح / نکاح

والدین کا بیٹی کی مرضی کے خلاف شادی کرنا

السلام عليكم ورحمۃ الله و بركاتہ، مفتی صاحب! عرض یہ ہے کہ ميری عمر ۲۷سال ہے اور میرا تقریباً ایک سال سے زائد ایک جگہ رشتہ چل رہا ہے اور وہ لڑکا دین دار اور باشرع ہے، لیکن میرے علاقہ سے تقریباً ۱۱-۱۲سو کلومیٹر دور ہے، اس پر میرے والدین را ضی نہیں کرنے کے لیے، حالانکہ وہ یہ شرط رکھ کر را ضی ہے کہ لڑکا وہیں رہائش کرےگا تو ہم کر دینگے اور میں ایک چھوٹے شہر سے تعلق رکھتی ہوں، جہاں نوکری ملنا ممکن نہیں، فی الوقت لڑکا جہاں مقیم و نوکر ہے، وہ بھی میرے گھر سے بہت دور ہے، لڑکے کا کہنا ہے کہ مجھے کچھ وقت دے دیں تو میں آپ کے شہر میں ہی رہائش گاہ بنا لوں گا، کوئی کاروبار کر لوں گا، لیکن نکاح میں دیر نہیں کریں، جلدی کردیں، میری والدہ خصوصاً اس پر راضی نہیں ہے اور میں خود پردہ و دین داری میں زندگی گزارنا چاہتی ہوں، دوسری بات یہ کہ میری والدہ دوسری جگہ رشتہ دیکھ رہی ہیں، لیکن یہ دوسرا لڑکا ظاہراً غیر شرع زندگی گزار رہا ہے مثلاً گانا لگا کر فوٹو ڈالنا، نہ داڑھی ہے چہرے پر، نہ کوئی ظاہری دین نظر آتا ہے، لیکن میرے گھر والے اس پر زور دے رہے ہیں، کیونکہ یہ میرے محلہ میں ہی ہے، میرے گھر والے مجھے ڈانٹ رہے ہیں کہ اس کے پاس بس داڑھی ہے ، اس لیے تم یہ کر رہی ہو، جبکہ میرا دل صرف ایک باشرع شوہر چاہتا ہے اور اپنی آنے والی اولاد کا مستقبل، مجھے ڈانٹ کر چپ کرا دیتی ہے میری والدہ اور مجھے میرے بھائی اور والد سے ڈر لگتا ہے تو کیا اس صورتحال میں ، میں یہ ضد و جدوجہد کر سکتی ہوں کہ مجھے دین والا رشتہ ہی کرنا ہے بجز اس کے کہ میری والدہ مجھ سے ناراض ہو اور مجھے دل دکھا کر گھر سے وداع کریں۔
میرے گھر والے بس دنیا ہی دیکھ رہے ہیں اور میں دین چاہتی ہوں، چاہے دنیا کم ملے، میں کسی بے دین شخص کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی۔ حضرت مفتی صاحب میرے حق میں دعا کریں، میں آپکی رہنمائی کی بھی طلب گار ہوں۔ میں کیا کروں؟ جلد از جلد جواب عنایت کریں۔ والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور لڑکا اگر دیندار اور با اخلاق ہو اور نان نفقہ، حق مہر اور دیگر حقوق کی ادائیگی پر قادر ہو تو ایسی صورت میں والدین کو چاہیے کہ بلا وجہ نکاح میں تاخیر سے کام نہ لیں، بلکہ جلد از جلد استخارہ وغیرہ کرنے کے بعد اپنی بیٹی کو عزت کے ساتھ رخصت کردیں، تاکہ مستقبل کی زندگی پاکدامنی کے ساتھ بسر ہوسکے، تاہم اگر سمجھانے کے باوجود سائلہ کے والدین اس رشتہ کے لئے راضی نہ ہوں تو سائلہ کو چاہیے کہ بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اچھے جیون ساتھی کی دعا مسلسل کرتی رہے، ان شاء اللہ امید ہے کہ اچھا رشتہ مل جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی جامع الترمذی: عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له: يا علي، ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا أتت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفئا. الخ ( ج 2 ص 378 )۔
وفی مشکوٰۃ المصابیح: و عن أبي سعيد و ابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوّجه، فإن بلغ ولم يزوّجه فأصاب إثماً فإنما إثمه على أبيه اھ ( ج 2 ص 939 )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78077کی تصدیق کریں
0     770
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات