کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہم اپنے بھائی مسمی محمد رزاق کا رشتہ مسماۃ نگینہ سے کرانا چاہتے ہیں، لیکن ہماری ایک سوتیلی نانی مسماۃ آسیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ محمد رزاق کی والدہ نورجہاں نے مسماۃ نگینہ کی والدہ زاہدہ کو مدتِ رضاعت میں دودھ پلایا ہے، جبکہ مسماۃ نورجہاں کی گود میں بیٹا محمد اسحاق تھا، اور مسماۃ نورجہاں ان دنوں میں بیمار تھی، اوروہ اپنے بچےکو بھی دودھ نہیں پلاسکتی تھی، اور وہ اس دودھ پلانے سے انکار کرتی ہے، اور مذکورنانی مسماۃ آسیہ کے علاوہ اس پر کوئی اور گواہ بھی موجود نہیں ہے، تو اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں مسمی محمد رزاق اور مسماۃ نگینہ کا رشتہ آپس میں جائز ہے کہ نہیں؟ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ فقط سائلہ کی سوتیلی نانی مسماۃ آسیہ کے دعوٰی کے مطابق سائلہ کی والدہ مسماۃ نور جہاں نے مسماۃ نگینہ کی والدہ مسماۃ زاہدہ کو مدت رضاعت میں دودھ پلایا ہے، جبکہ مسماۃ نور جہاں اس سے انکاری ہو، اور سائلہ کی نانی کے پاس اپنے اس دعوٰی پر کوئی گواہ بھی نہ ہوتو محض سائلہ کی سوتیلی نانی کے دعویٰ سے حرمتِ رضاعت ثابت نہ ہوگی، لہذا سائلہ کے بھائی کا نکاح مسماۃ نگینہ سے شرعاً جائز ہوگا۔
کما فی مشکوۃ المصابیح: عن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لو يعطى الناس بدعواهم لادعى ناس دماء رجال وأموالهم ولكن اليمين على المدعى عليه» . رواه مسلم وفي «شرحه للنووي» أنه قال: وجاء في رواية «البيهقي» بإسناد حسن أو صحيح زيادة عن ابن عباس مرفوعا: «لكن البينة على المدعي واليمين على من أنكر» الحدیث (ج2 صـ1110 باب الأقضية والشهادات، الفصل الاول، ط: المکتبۃ الاسلامی)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما آداب القضاء فكثيرة، والأصل فيها كتاب سيدنا عمر - رضي الله عنه - إلى أبي موسى الأشعري، - رحمه الله - سماه محمد - رحمه الله - كتاب السياسة، وفيه: أما بعد، فإن القضاء فريضة محكمة، وسنة متبعة، فافهم إذا أدلي إليك فإنه لا ينفع تكلم بحق لا نفاذ له، آس بين الناس في وجهك ومجلسك وعدلك، حتى لا يطمع شريف في حيفك، ولا ييأس ضعيف من عدلك - وفي رواية: ولا يخاف ضعيف جورك - البينة على المدعي واليمين على من أنكر الخ (ج7 صـ9 فصل فی بیان آداب القضاء ط: دار الکتب العلمیۃ)۔