نکاح

جہاں لڑکی کی دلی رضامندی نہ ہو ، تو والدین کو وہاں نکاح پر اصرار کرنا درست ہے؟

فتوی نمبر :
78790
| تاریخ :
2024-10-19
معاملات / احکام نکاح / نکاح

جہاں لڑکی کی دلی رضامندی نہ ہو ، تو والدین کو وہاں نکاح پر اصرار کرنا درست ہے؟

میرے والدین میری شادی میرے کزن سے کروانا چاہتے ہیں اور اس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ،مگر ایک سال پہلے میں نے اپنی کزن کو میسج کیاتو اس نے مجھے کہا کہ وہ مجھ میں دلچسپی نہیں لے رہی،میں نے اپنے والدین کو بتایا ہے کہ وہ مجھ سے رشتہ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی، پھر بھی میری بات نہیں مان رہے ہیں ،اب کیا کرنا چاہیئے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ عقدِ نکاح محض وقتی اور عارضی مصلحت کیلئے نہیں کیا جاتا ،بلکہ زندگی بھر نبھانے کے لئے کیا جاتا ہے، اس سے دو خاندانوں میں جوڑ و اتفاق، دو افراد کے درمیان خوشحالی اور محبت پیدا ہوتی ہے، اس لئے نکاح کرتے وقت لڑکا اور لڑکی کا ایک دوسرے کو پسند کرنے اور دونوں کی طبیعتوں میں ایک دوسرے کی طرف میلان اور ہم آہنگی کو ملحوظ ِخاطر رکھنا چاہیئے، اسی وجہ سے حدیث شریف میں بھی نکاح سے قبل لڑکا اور لڑکی کا اجنبی ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو ایک نظر دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لہذا سائل کی کزن اگر واقعۃ ًسائل کو ناپسند کرتی ہویا وہ دِلی طور پر اس نکاح کے لئے آمادہ نہ ہو بلکہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتی ہو، تو والدین کا ان دونوں کو نکاح پر مجبور کرنا درست نہیں ۔اس لئے سائل کو بھی مناسب انداز سے اپنے والدین کو سمجھا کر اس جگہ رشتہ پر اصرار کرنے سے منع کرنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشكاۃ المصابيح: عن المغيرۃ بن شعبۃ قال خطبت امرأۃ فقال لی رسول الله صلى الله عليه و سلم هل نظرت إليھا، قلت: لا، قال: فانظر إليھا فإنه أحرى أن يؤدم بينكما۔إلخ رواه أحمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجۃ و الدارمی۔إلخ( كتاب النكاح، باب النظر إلى المخطوبۃ،ج: 2، ص: 268، ط: قدیمی کتب خانہ )۔
و فی مرقاۃ المفاتيح تحت الحديث: عن المغيرۃ بن شعبۃ قال: خطبت إمرأۃ (إلى قوله) أی يوقع الأدم بينكما يعني يكون بينكما الألفۃ و المحبۃ، لأن تزوجھا إذا كان بعد معرفۃ فلا يكون بعدها غالباً ندامۃ۔إلخ( كتاب النكاح، باب النظر إلى المخطوبة، ج: 2، ص: 281، ط: مکتبہ حقانیۃ ) ۔
و فی الدر المختار: ( و لاتجبر البالغۃ البكر على النكاح إلخ ) لانقطاع الولايۃ بالبلوغ إلخ۔
و فی رد المحتار تحت: ( قوله و لاتجبر البالغۃ ) و لا الحر البالغ و المكاتب و المكاتبۃ و لو صغيرين إلخ( کتاب النکاح، باب الولی، ج: 3، ص: 58، ط: سعید )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78790کی تصدیق کریں
0     33
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات