میرا نام خوشی ہے، میرے والد کا نام میگراج ہے، میرے سابقہ ہند و شوہر نارائن تھے، میں نے ۲۸/۱۱/۲۰۲۳ کو اسلام قبول کیا، اسلام قبول کرنے کے بعد میں مدرسے جانے لگی اور نماز وغیرہ بھی پڑھنے لگی، جس کے بعد میں نے اپنے شوہر ہند و نارائن کو بتادیا کہ میں مسلمان ہو گئی ہوں، جس پر انہوں نے میرے سارے کاغذات ضبط کر لیے ، اور مجھے گھر سے نکال دیا، اور کچھ عرصہ اپنے گھر والوں کے ساتھ رہنے کے بعد میرے گھر والوں نے مجھے زبردستی اپنے شوہر کے ساتھ بھیج دیا، اس کے بعد میں اپنی استانی صاحبہ کے مشورہ سے کسی دوسری جگہ رہائش کیلئے منتقل ہو گئی، اس کے بعد میں مسمی کا مران ولد رحیم بخش سے کورٹ میرج کیا ہے، نکاح نامہ سوال کے ساتھ منسلک ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت حال میں میرا نکاح مسمی کامران ولد عمر بخش سے درست منعقد ہوا ہے یا نہیں ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دیں، اور کورٹ میں نکاح با قاعدہ دو گواہوں کی موجودگی اور حق مہر کے تقرر کے ساتھ ہوا ہے۔
نوٹ : نکاح ابھی دو دن قبل کیا ہے، نیز میں نے خود اپنے شوہر کو بھی اسلام میں آنے کی دعوت دی تھی، لیکن وہ نہیں مانے اور اس کے علاوہ ابھی تک کوئی بھی عدالتی کاروائی نہیں کی گئی، عدت بھی گزرگئی ہے ۔
واضح ہو کہ کوئی غیر مسلم عورت اگر مسلمان ہو جائے اور شوہر مسلمان نہ ہو ، تو ایسی صورت میں اگر میاں بیوی دونوں دارالاسلام میں ہوں تو معاملہ قاضی کی عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے، جس کے بعد قاضی شوہر کے سامنے اسلام کو پیش کرتاہے،اگر وہ انکار کردے تو دونوں کے درمیان تفریق کرديتا ہے،قاضی کی تفریق سے پہلے عورت اپنے کافر شوہر کے نکاح سے خارج نہیں ہوتی اور اس کا نکاح کسی اور مرد سے جائز نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ نے اگر کوئی عدالتی کاروائی نہیں کی ہو، تو ابھی تک سائلہ اپنے ہندو ( کافر) شوہر کے نکاح سے خارج نہیں ہوئی، بلکہ دونوں کا نکاح برقرار ہے، اس لئے مذکور مسلم مرد سے سائلہ کا نکاح شرعاً درست منعقد نہیں ہوا، بلکہ فاسد ہوچکا ہے، اب مسلمان مرد پر لازم ہے کہ وہ الفاظ متارکہ (میں نے چھوڑ دیا یا میں نے طلاق دیدی وغیرہ) کہہ کر سائلہ کو چھوڑ دے، اور سائلہ اس معاملہ کو قاضی کے یہاں پیش کرے، تاہم سائلہ کے ہندو شوہر اگر قاضی کے سامنے اسلام قبول کرنے سے انکار کردے، تو قاضی دونوں کے درمیان تفریق کردے گا، پھر عدت گزارنے کے بعد اگر سائلہ مسلم مرد سے شادی کرنا چاہتی ہو، اور مسلم مرد بھی اس پرراضی ہو ، تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ گواہاں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کر سکتی ہے۔
كما في الدر المختار : (وإذا) (أسلم أحد الزوجين المجوسيين أو امرأة الكتابي عرض الإسلام على الآخر، فإن أسلم) فبها (وإلا) بأن أبى أو سكت (فرق بينهما، إلى قوله) (ولو) (أسلم أحدهما) أي أحد المجوسيين أو امرأة الكتابي (ثمة) أي في دار الحرب وملحق بها كالبحر الملح لم تبن حتى تحيض ثلاثا أو تمضي ثلاثة أشهر قبل إسلام الآخر) إقامة لشرط الفرقة مقام السبب الخ (باب نكاح الكافر، ج ۳، ص ۱۸۸، ط: سعید)-
وفي رد المحتار : تحت (قوله وعليه نفقة العدة) أي لو مدخولا بها إذ غيرها لا عدة عليها. وأفاد وجوب العدة سواء ارتد أو ارتدت بالحيض أو بالأشهر لو صغيرة أو آيسة أو بوضع الحمل كما في البحر (باب نكاح الكافر، ج 3، ص ١٩٤، ط: سعيد)-