میرا نام رخسانہ ہے، میرا نکاح مجھ سے پوچھے بغیر میرے بھائیوں نے کسی شخص سے کروا دیا، نکاح کرواتے وقت مجھ سے وکالت بھی نہیں لی گئی،اس نکاح کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا یہ نکاح منعقد ہوا یا نہیں؟اور اگر میرے گھر والے زور زبردستی اس قسم کے نکاح کے بعد میری رخصتی کرتے ہیں، تو کیا میرے شوہر کا میرے ساتھ رہنا حلال ہوگا یا حرام؟ اور اگر یہ رخصتی اور اس شخص کے ساتھ رہنا جس سے میرا نکاح میری مرضی کے بغیر ہوا ہے، حرام ہے، تو اس صورت میں میرے لئے کیا حکم ہے؟ کیا مجھے بھی زنا کا گناہ ہوگا؟ اور میرے بھائیوں اور والد وغیرہ کو ایسا کرنے پر زنا کاری پر مجبور کرنے کا گناہ ہوگا؟ اور کیا وہ شخص جس کے ساتھ میں رہوں گی، وہ بھی زانی شمار ہوگا؟قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
واضح ہو کہ عقدِ نکاح محض وقتی اور عارضی مصلحت کے لیے نہیں کیا جا تا ،بلکہ زندگی بھر نبھانے کے لیے کیا جاتا ہے ، اس سے دو خاندانوں میں جوڑ و اتفاق اوردو افراد کے درمیان خوشحالی اور محبت پپدا ہوتی ہے ، اس لیے نکاح کرتے وقت لڑکے اور لڑکی کے قلبی میلان، دونوں کی طبیعتوں میں یکسانیت، اور ذہنی ہم آہنگی کا لحاظ رکھنا بہت ضروری ہے ، لہذا اولیاءکو چاہیئے کہ وہ اپنے بچوں کےنکاح میں ان کی رضامندی اور پسند کا لحاظ رکھیں، اور اگر ان کی کلی رضامندی کےبغیر نکاح کرایا گیا تو وہ نکاح شرعاً معتبر بھی نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ نے اگر واقعۃً ہی قولاً اور نہ ہی فعلاً ایجاب وقبول کیا ہو، اور نہ ہی اس سے وکالت لی گئی ہو تو ایسی صورت میں نکاح کا انعقاد سائلہ کی اجازت پر ہی موقوف ہوگا،اگر سائلہ اس نکاح کو رد کرتی ہے تو یہ نکاح ازخود ختم ہوگا، اور ایسی صورت میں سائلہ کیلئے اس مرد کے ساتھ رہنا کسی بھی صورت جائز نہیں ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (ولا تجبر البالغۃ البکر علی النکاح) لانقطاع الولایۃ بالبلوغ ( فإن استأذنھا ھو ) أی الولی وھو السنۃ الخ
وفی الفتاوى الشامیۃ تحت : قوله(ولا تجبر البالغۃ) ولا الحر البالغ (إلی قولہ) (قولہ وھو السنۃ ) بأن یقول لھا قبل النکاح فلان یخاطبک أو یذکرک فسکتت وإن زوجھا بغیر استئمار فقد اخطأ السنۃ وتوقف علی رضاھا بحر عن المحیط (إلی قولہ) وفی شرح الجامع الصغیر لقاضیخان وان بکت کان رداً فی احدی الروایتین عن أبی یوسف وعنہ فی روایۃ یکون رضا قالوا ان کان البکاء عن صوت وویل لا یکون رضا الخ (باب الولی، ج 3، ص 58، ط : سعید)۔
وفی الھندیۃ: لا یجوز نکاح احد علی بالغۃ صحیحۃ العقل من أب أو سلطان بغیر إذنھا بکرا کانت أو ثیبا فإن فعل ذلک فالنکاح موقوف علی إجازتھا فإن أجازتہ جاز وإن ردتہ بطل کذا فی السراج الوھاج الخ (باب الاولیاء، ج 1، ص 316، ط: دارالکتب)۔
وفی تبیین الحقائق : (ولا تجبر بکر البالغۃ علی النکاح) یرید بہ أنہ لا یزوجھا بغیر رضاھا فإن فعل ذلک فالنکاح موقوف علی إجازتھا عندنا وإن ردتہ بطل الخ ( باب الاولیاء والاکفاء، ج2، ص 495، دارالکتب)۔