کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک شخص کے ساتھ کاروبار میں شرکت کرناچاہتا ہوں، میں اس کو تین لاکھ روپے کے گیس سلنڈر خرید کردوں گا، اور وہ اس میں گیس بھر کر فروخت کرے گا، جس میں پر سنٹ فکس کرکے منافع تقسیم کروں گا، جبکہ میں جس آدمی کے ساتھ کاروبار کرنا چاہ رہا ہوں وہ کہہ رہا ہے کہ آپ سلنڈر کی بجائے تین لاکھ روپے مجھے بطور قرض دیدیں، میں خود سلنڈر خریدوں گا، اور منافع پر سنٹ کے بجائے ہر تین مہینہ الگ الگ کرکے بطور منافع دیتا رہوں گا؟
سائل نے سوال میں مذکور شخص کے ساتھ کاروبار کی جو صورت ذکر کی ہے، وہ شرعاً درست نہیں، لہذا سائل اور مذکور شخص کو چاہیئے یا تو دونوں سرمایہ جمع کرکے مشترکہ کاروبار کریں،اور مشترکہ کاروبار میں ہونے والے منافع کی تقسیم کے لئے کوئی فیصدی تناسب طے کرکے اسکے مطابق منافع تقسیم کریں،جبکہ نقصان ہر شخص کے سرمایہ کے مطابق عائد ہوگا، یا سائل سلنڈر خرید کر مذکور شخص کو کرایہ پر دے اور اس سے طے شدہ کرایہ وصول کرتا رہے۔
کما فی بدائع الصنائع: (أما) الشركة بالأموال فلها شروط: (منها) أن يكون رأس المال من الأثمان المطلقة وهي التي لا تتعين بالتعيين في المفاوضات على كل حال، وهي الدراهم والدنانير، عنانا كانت الشركة أو مفاوضة عند عامة العلماء، فلا تصح الشركة في العروض الخ (ج6 صـ59 فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی رد المحتار: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه الخ (ج5 صـ166 باب المرابحۃ والتولیۃ، فصل فی القرض، ط: دار الفکر)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0