میرے والد شیعہ ہیں، اور والدہ سنی ہے،میں ایک سنی لڑکے سے نکاح کرنا چاہتی ہوں اور میں بھی سنی ہو گئی ہوں، کیا یہ نکاح جائز ہے؟
واضح ہوکہ مسلمان ہونے کے لئے فقط ظاہری اعمال کی درستگی کافی نہیں ، بلکہ بنیادی عقائدبھی قرآن وسنت کے مطابق ہونا ضروری ہے،سائلہ اگر فرقہ اثنا عشریہ سے تعلق نہ رکھتی ہو،یا وہ وااقعۃً کفریہ عقائد جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا ماننا ،قرآنِ کریم میں تحریف کا قائل ہونا ،یا جبرائیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھنا،یا حضرتِ عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا ماننا،یاحضرتِ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا منکر ہونا ،یا اس قسم کا کوئی دوسرا قرآنِ کریم کے صریح امرکے مخالف کفریہ عقیدہ نہ رکھتی ہو،یا وہ ان عقائد سے توبہ تائب ہوکراس سے علی الاعلان براءت کا اظہار کرتی ہوتووہ اپنے والدین کو اعتماد میں لیکر کسی سنی العقیدہ مسلمان لڑکےسے نکاح کر سکتی ہے۔
کمافی رد المحتار: نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن اھ (4/237)۔
وفیہ ایضاً: وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر اھ (3/46)۔