السلام علیکم ! میراایک بھائی ہے جو شادی شدہ ہے، اس کے 2 بچے ہیں ، وہ بے روزگار اور معذور بھی ہے ، وہ ہمارے ساتھ مشترکہ خاندان میں رہ رہا ہے ، میں اسے ہر ماہ کی مالی مدد فراہم کر رہا ہوں ، میرے پاس 2 سوال ہیں ۔ (1) میں اسے تمام رقم ماہانہ بھیجتا ہوں ، کیا میں اس رقم کو ہر ماہ زکوۃ سے سمجھ سکتا ہوں ؟ یا زکوۃ صرف ایک سال کے بعد ہی ادا کی جا سکتی ہے ؟(2 ) دوم اگر وہ مشترکہ خاندان میں رہ رہا ہو، اور میں اسے رقم براہ راست نہ دوں لیکن اس کے بچوں کے اسکول کے تمام و اجبات اور اخراجات ادا کروں تو کیا میں ان کو بھی زکوۃ سے شمار کر سکتا ہوں ؟ میں نے اسے کبھی محسوس نہیں ہونے دیا ، اور کبھی اس پر فخر نہیں کیا کہ میں اس کی اور اس کے خاندان کی مدد کر رہا ہوں ، میں اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر اور صرف اللہ کے لئے کر رہا ہوں چونکہ وسائل محدود ہیں او ر اس لیے پوچھ رہا ہوں کی کیا میں اس کی زکوۃ کی رقم سے ہر طرح کی مالی مدد کر سکتا ہوں ؟ جزا ک اللہ
سائل کا بھائی اگر مستحق زکوٰۃ ہے اس طور پر کہ اس کے پاس نصاب کے بقدر مال موجود نہیں ہوتو سائل کا زکوٰۃ کی مد سے اس کے ساتھ تعاون کرنااور ہر ماہ نقد رقم دینا شرعاً جائز ہے، اور ایسی صورت میں سائل جاری سال کے مکمل ہونے سے پہلے بھی بطور ایڈوانس زکوٰۃ ادا کرسکتا ہے۔
2۔ جبکہ زکوٰۃ کی درست ادائیگی کے لئے ضروری ہے کہ زکوٰۃ کی رقم یا سامان کسی فقیر اور مستحق کو براہ راست مالک بناکر ادا کی جائے ۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا زکوٰۃ کی رقم سے براہ راست بچوں کی فیس وغیرہ اخراجات ادا کرنے سے شرعاً اس کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی ، بلکہ سائل کو چاہیئے کہ یہ رقم بچوں کے معذور والد کو کسی بھی مناسب طریقہ سے دیکر انہیں مالک بنادے جس کے بعد وہ حسب سہولت اپنے اخراجات میں خرچ کرنے کے مجاز ہوں گے ۔
کما فی الھندیۃ: (منها الفقير) وهو من له أدنى شيء وهو ما دون النصاب أو قدر نصاب غير نام وهو مستغرق في الحاجة فلا يخرجه عن الفقير ملك نصب كثيرة غير نامية إذا كانت مستغرقة بالحاجة كذا في فتح القدير. التصدق على الفقير العالم أفضل من التصدق على الجاهل كذا في الزاهدي.(ومنها المسكين) وهو من لا شيء له الخ۔ (الباب السابع في المصارف، ج: 1، ص: 187، ط: ماجدیۃ)۔
وفی الدر: (هي) لغة الطهارة والنماء، وشرعا (تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم الخ ( کتاب الزکوٰۃ، ج: 2، ص: 256، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: والأفضل في الزكاة والفطر والنذر الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأعمام والعمات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأخوال والخالات ثم إلى أولادهم (إلی قولہ) ولو قبض الصغير، وهو مراهق جاز، وكذا لو كان يعقل القبض بأن كان لا يرمي، ولا يخدع عنه، ولو دفع إلى فقير معتوه جاز كذا في فتاوى قاضي خان الخ۔ (الباب السابع في المصارف، ج: 1، ص: 187، ط: ماجدیۃ)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0