ميرى سالي سىدہ ہے مگر ان کے شوہر غیر سید ہے اور انکی ایک چھوٹی بیٹی ہے۰ ان کے شوہر کی ایک سال سے نوکری نہیں ہے اور گھر کے حالات کافی خراب ہیں اور امدنی بلکل نہں ہے۔ اس صورت میں ان لوگوں کی زکوٰت کے پیسوں سے مدد کی جا سکتی ہے؟ زکوٰت کے پیسے گھر کے راشن شوہر کی دوای اور بچی کی فیس وغیرہ میں خرچ ہوگی۔
سائل کا ہم زلف اگر غیر سید اور مستحق زکوۃ ہو، تو سائل زکوۃ کی رقم سے ان کا تعان کرسکتا ہے، پھر سائل کا ہم زلف اس رقم کو اپنی گھریلو ضروریات سمیت بچی کی فیس وغیرہ میں بھی استعمال کرسکتاہے۔
کما فی الدر المختار: أي مصرف الزكاة (الی قولہ) (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة الخ (باب المصرف، ج 2، ص 339، ط: سعید)۔
و فی بدائع الصنائع: ويجوز دفع الزكاة إلى من سوى الوالدين والمولودين من الأقارب ومن الإخوة والأخوات وغيرهم الخ (باب ما یرجع الی المودی الیہ، ج 2، ص 50، ط: سعید)۔
وفی البحر الرائق : هي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى -الخ (ج2 ص 201 کتاب الزکاۃ ط ماجدیہ)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0