نکاح

سیدہ لڑکی سے اس کے اولیاء کی اجازت کے بغیر غیر سید کےنکاح کا حکم

فتوی نمبر :
81811
| تاریخ :
2025-03-04
معاملات / احکام نکاح / نکاح

سیدہ لڑکی سے اس کے اولیاء کی اجازت کے بغیر غیر سید کےنکاح کا حکم

محترم مفتی صاحب، میں نے کچھ سال پہلے ایک لڑکی سے فون کال پر نکاح کیا تھا۔ میری طرف سے میرا ایک دوست موجود تھا جس نے قاضی کا کردار ادا کیا، اور دو دیگر لڑکے گواہ بنے۔ لڑکی بھی فون پر موجود تھی۔ میرے دوست نے مجھے ہی لڑکی کا ولی مقرر کیا کیونکہ اس کے گھر والے اس نکاح پر راضی نہیں تھے۔بعد میں میں نے اسے واضح الفاظ میں تین طلاقیں دے دیں۔ اب کچھ وقت بعد ہمارے گھر والے راضی ہو چکے ہیں، اور میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ:
1. کیا ہمارا نکاح شرعی طور پر منعقد ہو گیا تھا؟
2. اگر نکاح درست تھا تو تین طلاقیں واقع ہوئیں یا نہیں؟
3. اگر طلاق واقع ہو چکی ہے تو کیا ہم دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں؟
4. لڑکی سید سنی ہے اور میں آرائیں ہوں، کیا ہمارے نکاح میں کوئی شرعی رکاوٹ ہے؟
تنقيح
سائل نے سوال میں ا س بات کی وضاحت نہیں کی کہ (1) لڑکی نے موبائل فون وغیرہ کے ذریعے سائل یا اس کے دوست کو اپنے نکاح کا وکیل مقرر کیا تھا یا نہیں ؟ (2)نیز نکاح کے بعد سائل اور مذکور لڑکی کے درمیان کسی تنہائی میں ملاقات کا موقع میسر آیا تھا یا نہیں ؟ (3) اور سائل نے کن الفاظ میں تین طلاقیں دی تھیں لہذا سائل کو چاہئے کہ مکمل وضاحت کے ساتھ سوال دوبارہ ای میل کردے اس پر غور و فکر کے بعد ان شاءاللہ حکم شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔
جواب تنقیح:محترم مفتی صاحب!
1-لڑکی نے بھی فون کال پر ہی مجھے اپنا ولی مقرر کر دیا تھا کیونکہ اس کے گھر والے اس نکاح کے حق میں نہیں تھے۔
2-ہمارا آپس میں کبھی تنہائی میں ملنا نہیں ہوا، کیونکہ ہم دونوں مختلف شہروں میں رہتے تھے۔
3-بعد از نکاح، میں نے اسے وقفے وقفے سے دو طلاقیں دیں، اور میرے الفاظ یہ تھے:
1. "میں تمہیں پہلی طلاق دیتا ہوں"
2. کچھ عرصے بعد دوبارہ کہا: "میں تمہیں دوسری طلاق دیتا ہوں"

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح کے معاملے میں غیر سید لڑکا سیدہ لڑکی کا ہم پلہ (کفؤ) اور برابر کا نہیں اور ایسی صورت میں لڑکی کی أولیاء کی رضامندی کے بغیر نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔چنانچہ سائل کا مذکور سیدہ لڑکی سے نکاح ہی نہیں ہوا اس لیے وہ حسب سابق سائل کے لیے أجنبیہ ہی رہی تھی۔ لہذا اب اگر لڑکی کی أولیاء و سرپرست راضی ہوں تو سائل کے لیے مذکورہ سیدہ لڑکی سے دوبارہ نکاح کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وله)أى للولي (إذا كان عصبة الإعتراض في غير الكفء ويفتى) في غير الكفء (بعدم جوازه أصلا )وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان) فلا تحل مطلقة ثلاثاً نكحت غير كفء بلارضا ولي..الخ.(ج:3،ص:56،باب الولي،مط:سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81811کی تصدیق کریں
0     158
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات