نکاح

عیسائی لڑکی سے نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
81817
| تاریخ :
2025-03-05
معاملات / احکام نکاح / نکاح

عیسائی لڑکی سے نکاح کرنے کا حکم

السلام علیکم
مجھے ایک مسئلہ درپیش ہے جس میں آپ کی رہنمائی چاہئیے ، میں ایک کرسچن اہلِ کتاب لڑکی کو پسند کرتا ہوں اور میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ لڑکی کا ارادہ مسلمان ہونے کا ہے لیکن وہ یہ بات ابھی ظاہر نہیں کر سکتی، مگر گھر والے اس چیز کے لئے پہلے سے تیار ہیں کہ مسلم گھر میں نکاح ہوگا تو وہ لوگ تمہیں پہلے کلمہ پڑھائیں گے، اسی لئے ان کی ایک شرط ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ پہلے لڑکا ہمارے طریقے سے یعنی کرسچن طریقے سے نکاح کرے جو کہ وہ گھر میں ہی کرائیں گے، یہ شرط انہوں نے اس لئے رکھی ہے تاکہ لڑکی کے لئے اس کے گھر کے راستے کھلے رہیں، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اس میں میرے لئے کوئی آسانی ہے کہ میں صرف دکھاوے کے لئے کرسچن طریقے سے نکاح کر لوں، بعد میں پھر لڑکی مسلمان ہو جائے گی اور مسلم طریقے سے نکاح ہوگا، مجھے اس کے لئے فتویٰ چاہئیے کہ میرے لئے کیا آسانی ہو سکتی ہے، اس میں میری رہنمائی کر دیں، میں 23 سال کا ہوں اور لڑکی بھی تقریباً اسی عمر کی ہے، ہم دونوں بالغ ہیں۔ جزاک اللہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے کہ اسلام ایک حق مذہب ہے، اس کی حقانیت اور صداقت کی بنیاد پر اس میں داخل ہونا شرعًا مطلوب ہے، کسی دنیوی مقصد کے لئے اس کو اختیار کرنے کی مذمّت وارد ہوئی ہے، اور اخروی اعتبار سے عند اللہ اس پر کوئی اجر و ثواب بھی نہیں ملے گا، اس لئے اگر سائل کو اطمینان ہو کہ مذکورہ لڑکی محض سائل سے محبت اور تعلق کی بنیاد پر اسلام قبول نہیں کر رہی بلکہ اسلام کو حق جان کر اور مان کر اسے اختیار کر رہی ہے تو سائل کے لئے اس سے نکاح کرنا باعثِ اجر و ثواب ہوگا، تاہم اگر ان کے گھر جا کرعیسائی رسومات کے مطابق نکاح کرنے میں کوئی کفریہ کام کرنا پڑتا ہو یا کفریہ کلام بولنا پڑتا ہو تو ایسی صورت میں سائل کے لئے ان کی اس شرط کو ماننا قطعًا جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے، بصورتِ ِدیگر ان کی مذکور شرط پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى: وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ إِذَآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحۡصِنِينَ غَيۡرَ مُسَٰفِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِيٓ أَخۡدَانٖۗ(سورة المائده:ايه:٥)
و في المصنف لابن الي شيبيه:عن شقيق، قال: ‌تزوج ‌حذيفة ‌يهودية فكتب إليه عمر أن خل سبيلها، فكتب إليه: إن كانت حراما خليت سبيلها فكتب إليه:«إني لا أزعم أنها حرام، ولكني أخاف أن تعاطوا المومسات منهن»(‌‌من كان يكره النكاح في أهل الكتاب،ج:٩،ص:٨٥،مط:ادارة القران)
و في الدرالمختار:(وصح نكاح كتابية) وإن كره تنزيها(مؤمنة بنبي) مرسل (مقرة بكتاب) منزل ‌وإن ‌اعتقدوا ‌المسيح إلها، وكذا حل ذبيحتهم على المذهب.( ‌‌فصل في المحرمات،ج:٣،ص:٤٥،مط:سعيد)
و في رد المحتارتحت: (قوله: كتابية) أطلقه ‌فشمل ‌الحربية والذمية والحرة والأمة ح عن البحر (قوله: وإن كره تنزيها) أي سواء كانت ذمية أو حربية، فإن صاحب البحر استظهر أن الكراهة في الكتابية الحربية تنزيهية فالذمية أولى. اهـ. قلت: علل ذلك في البحر بأن التحريمية لا بد لها من نهي أو ما في معناه؛ لأنها في رتبة الواجب. اهـ. وفيه أن إطلاقهم الكراهة في الحربية يفيد أنها تحريمية، والدليل عند المجتهد على أن التعليل يفيد ذلك، ففي الفتح ويجوز تزوج الكتابيات والأولى أن لا يفعل، ولا يأكل ذبيحتهم إلا للضرورة، وتكره الكتابية الحربية إجماعا؛ لافتتاح باب الفتنة من إمكان التعلق المستدعي للمقام معها في دار الحرب، وتعريض الولد على التخلق بأخلاق أهل الكفر، وعلى الرق بأن تسبى وهي حبلى فيولد رقيقا، وإن كان مسلما. اهـ. فقوله: والأولى أن لا يفعل يفيد كراهة التنزيه في غير الحربية، وما بعده يفيد كراهة التحريم في الحربية تأمل. (قوله: مؤمنة بنبي) تفسير للكتابية لا تقييد ط (قوله: مقرة بكتاب) في النهر عن الزيلعي: واعلم أن من اعتقد دينا سماويا وله كتاب منزل كصحف إبراهيم وشيث وزبور داود فهو من أهل الكتاب فتجوز مناكحتهم وأكل ذبائحهم.( ‌‌فصل في المحرمات،ج:٣،ص:٤٥،مط:سعيد)
و فی البدائع الصنائع:ومنها أن يكون ‌للزوجين ‌ملة يقران عليها، فإن لم يكن بأن كان أحدهما مرتدا لا يجوز نكاحه أصلا لا بمسلم ولا بكافر غير مرتد، والمرتد مثله؛ لأنه ترك ملة الإسلام(الى قوله) ويجوز أن ينكح الكتابية؛ لقوله عز وجل: {والمحصنات من الذين أوتوا الكتاب من قبلكم} [المائدة: 5] .( الى قوله) إلا أنه جوز نكاح الكتابية؛ لرجاء إسلامها؛ لأنها آمنت بكتب الأنبياء والرسل في الجملة(فصل أن لا تكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما،ج:٢،ص:٢٧٠،مط:سعيد)


واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81817کی تصدیق کریں
0     21
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات