السلام علیکم محترم!
مجھے آپ سے رہنمائی درکار ہے، ایک بیوہ خاتون ہیں، جن کے تین بچے ہیں، میں ان سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، میں نیکی کرنا چاہتا ہوں ،اور مجھے وہ بہت پسند ہے، مجھے لگتا ہے کہ وہ میری بیٹی کے لئے بھی ان شاء اللہ اچھی ثابت ہوں گی، میری ایک بیٹی ہے، جو پہلی بیوی سے ہے ،اور وہ پچھلے دس سال سے میرے پاس ہے، طلاق کے بعد پشتون خاندان میں کچھ لوگوں نے بچی کی وجہ سےمیری دوسری شادی کروائی، لیکن جس یقین کے ساتھ یہ نکاح ہوا تھا، وہ سب کچھ اس کے برعکس نکلا،نہ گھر داری میں دلچسپی، نہ میرے کاموں میں، نہ ہی میری بیٹی کے ساتھ مناسب رویہ،بلکہ اُلٹا یہ کہنا شروع کر دیا میری والدہ کو کہ آپ کے بیٹے میں خرابی ہے، اسی وجہ سے اولاد نہیں ہو رہی ہے اسے، کہنے لگیں کہ اپنا ٹیسٹ کروا کے رپورٹ فریم کرواکے کمرے میں لگا دینی چاہیئے ،جو کہ بعد میں اللہ نے ثابت کیا کہ میڈیکل مسئلہ دوسری طرف تھا،اس کے علاوہ میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتا ہوں، اور یہ گھر میری والدہ کی محنت سےانہوں نے بنوایا ہے، اس گھر میں بدتمیزی اور ہر غلط طرح سے ذہنی دباؤ دینا، میری ماں کو کچھ سمجھنا نہیں ،ایسے ہی یہ سب پچھلے چار سال سے جاری ہے، اسی وجہ سے میں شدید ذہنی الجھن کا شکارہوں، اور میں اب ایسے انسان پر اپنی بیٹی کے لئے بھروسہ نہیں کر سکتا، جس کی حقیقت اب واضح ہو چکی ہے۔
میں جن خاتون سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، انہیں سب سچ بتا چکا ہوں کہ میرے ساتھ یہ مسئلہ ہے، اور انہوں نے میری بات کو سمجھ کر نکاح کے لئے ہاں کر دی ہے،اب آپ مجھے رہنمائی فرمائیں کہ میں آئندہ زندگی ان کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں، نہ کہ اس انسان کے ساتھ جس کی زندگی کا مقصد صرف پیسہ یا سیر و تفریح ہے، اس کا گھر داری سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، نہ ہی بڑوں کا ادب، نہ کوئی سلیقہ،میں ایسے انسان کے ساتھ رہ کر اپنی زندگی مزید خراب نہیں کر سکتا، اس کا حق ِمہر چار لاکھ روپے ہے، وہ بھی میں ادا کر دوں گا،میں چاہتا ہوں کہ بغیر کسی لڑائی جھگڑے کے میں اس عورت سے اپنی جان چھڑا سکوں۔
واضح ہوکہ دوسری شادی کرنے کے لئے پہلی بیوی کو طلاق دیناشرعاًلازم اورضروری نہیں ،بلکہ اگر سائل دونوں بیویوں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے درمیان برابری کرنے پر قادر ہوتو اس کے لئے دوسری شادی کرنے کی اجازت ہے،محض دوسری شادی کی وجہ سے پہلی بیوی کو طلاق دیناان کی زندگی اور مستقبل کو داغدار کرناقطعاً درست نہیں ،اس لئے اس سے بہر صورت احتراز لازم ہے،تاہم اگر سائل واقعۃًاپنی موجودہ بیوی کے ساتھ مزید زندگی بسر کرنا نہیں چاہتا،اور اس میں سائل کی طرف سے کوئی کوتاہی نہ ہو،بلکہ اس رشتہ کو برقرار رکھنے میں رکاوٹ اور پیچیدگیوں کا سبب اس کی موجودہ بیوی ہو،جس کی وجہ سائل کے لئے اللہ کی حدود کی پاسداری کرتے ہوئے اس کے ساتھ نباہ ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کے لئے فریقین کے خاندان کے بڑوں کو اعتماد مین لیکر طلاق یا خلع کے ذریعے اپنی بیوی کو اپنی زوجیت سے علیحدہ کرنے کی بھی شرعاً گنجائش ہوگی ، اور اس کی وجہ سے وہ گناہ گار بھی نہ ہو گا ،جبکہ سائل پر اسکا مقرّر کردہ حقِ مہر بھی ادا کرنا لازم ہوگا۔
کما فی رد المحتار : تحت ( قوله للشقاق ) أي لوجود الشقاق و هو الاختلاف و التخاصم و في القهستاني عن شرح الطحاوي السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينھما،فإن لم يصطلحا جاز الطلاق و الخلع۔اھ(3/441)۔
و فیه ایضاً:(قوله لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة) و لا عليھا تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اه مجتبى و الفجور يعم الزنا و غيره و قد قال ﷺ لمن زوجته لا ترد يد لامس و قد قال إني أحبھا استمتع بھا۔اھ (6/427)۔
وفی الھندیہ:وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لا يعدل بينهما لا يسعه ذلك وإن كان لا يخاف وسعه ذلك والامتناع أولى ويؤجر بترك إدخال الغم عليها كذا في السراجية. والمستحب أن يسوي بينهن في جميع الاستمتاعات من الوطء والقبلة وكذا بين الجواري وأمهات الأولاد ولا يجب شيء كذا في فتح القدير.(ج1 ص341 کتاب النکاح ط:ماجد)۔