نکاح

نکاح متعہ میں طلاق لئے بغیر کسی اور سے نکاح کرنا درست ہوگا؟

فتوی نمبر :
82245
| تاریخ :
2025-04-22
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح متعہ میں طلاق لئے بغیر کسی اور سے نکاح کرنا درست ہوگا؟

کیا ایک شیعہ لڑکے سے ایک سنی طلاق شدہ عورت کا بغیر کسی گواہ، بغیر کسی امام کی موجودگی میں ہوٹل کے کمرے میں زبانی طور پر متعہ نکاح کرنا، جس کا دورانیہ ایک سال اور بعد میں چھ ماہ کے لیے طے ہوا، شرعی طور پر معتبر ہے؟ اور اگر وہ عورت بعد میں اپنے گھر والوں کی مرضی سے کسی اور سے نکاح کر لے اور یہ بیان دے کہ 'میں متعہ کو نہیں مانتی، وہ تو میں نے صرف پیسوں کے لیے ہمبستری کی تھی ۔ کیا اس عورت کا دوسرا نکاح فاسد(باطل) ہو گا یا نہیں؟"

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ شریعت مطہرہ نے نکاح کو پاکیزگی، عفت اور باہمی ذمہ داری کا ذریعہ بنایا ہے، نہ کہ وقتی خواہشات کی تکمیل کا، جبکہ محدودوقت کے لیے گواہوں کےبغیرکیاجانے والانکاح شریعت میں نزدیک باطل، حرام، اور زنا ہے ،لہذاکسی عورت کا کسی غیر محرم مرد کے ساتھ خفیہ طور پر، بغیر گواہوں اور بغیر شرعی طریقے کے متعہ کے نام پر جسمانی تعلق قائم کرنا نہایت قبیح، ناجائز، اور شرعاً صریح زنا اورگناہ ِکبیرہ ہے۔ خصوصاً جب عورت خود اقرار کرے کہ وہ صرف پیسوں کی خاطر متعہ کے نام پر مرد سے تعلق رکھ رہی تھی اور اس تعلق کو "نکاح" نہیں مانتی۔ایسی عورت پر فرض ہے کہ وہ سچے دل سے توبہ و استغفار کرے، اورآئندہ اس عمل سے مکمل پرہیز کرے، لہذاصورت مسئولہ میں جب پہلا تعلق نکاح ہی نہیں تھا تو اس کے بعد شرعی طریقے سے گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ساتھ کیا گیا دوسرا نکاح فاسد یا باطل نہیں بلکہ بالکل درست، صحیح اور معتبرہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82245کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات