نکاح

شوہر کا حرام کاموں پر مجبور کرنے کی وجہ سے کیا عورت اس سے علیحدگی لے سکتی ہے؟

فتوی نمبر :
82340
| تاریخ :
2025-04-26
معاملات / احکام نکاح / نکاح

شوہر کا حرام کاموں پر مجبور کرنے کی وجہ سے کیا عورت اس سے علیحدگی لے سکتی ہے؟

میری شادی 2020 میں ہوئی، شادی کے پہلے مہینے ہی شوہر نے ہاتھ جوڑ کر بتایا کہ وہ ازدواجی حقوق ادا کرنے کے قابل نہیں، میں نے کہا کہ علاج کروا لیتے ہیں ساتھ دونگی، پھر انہوں نے ایک ماہ حکیمی دوا کھائی جس سے ازدواجی طور پر فرق نہ پڑا لیکن بچہ ٹھہر گیا، وہ بیوی کے حقوق ٹھیک سے ادا کرنے کے قابل نہ ہوئے، اور غیر شرعی طریقہ اختیار کرتے ہوئے انہوں نے مجھ سے اس طریقے پر صحبت کی، اور بیوی کی ذرا بھی حاجت محسوس نہ ہوئی،کچھ مہینوں بعد انہوں نے میرا حق مہر اور خرچہ بھی دینا بند کر دیا، نہ دوا لی، پھر دوبارہ ہومیوپیتھک دوا شروع کی تو بچی ٹھہر گئی، لیکن پھر بھی بیوی کی کوئی حاجت نہ محسوس تھی، وہ دوا بھی چھوڑ دی، اب ہماراے دو بچے ہیں لیکن میرے شوہر کی طرف سے کوئی حاجت نہیں، نہ حقوق ادا کرنے کے قابل ہیں،اور غیر شرعی طریقے کے علاوہ بیوی کو خود لذتی کی طرف اُکساتے ہیں اور فحش ویڈیوز دیکھنے پر مجبور کرتے ہیں ،حیا کی بنا پراور کھول کے نہیں بتاسکتی، میں یہ حرام کام سے بچنا چاہتی ہوں، لیکن نہ اولاد پر خرچ کرتے ہیں، نہ بیوی پر، کیونکہ بیوی کی حاجت نہیں تو بیوی بھی بوجھ لگتی ہے، نہ بیوی کوطلاق دینا بہت مانگنےپر،پھر میں نے کورٹ سے رجوع کیااور ساری بات کی، کورٹ نے شوہر کو بلایا، وہ آیا، بات سن کر اور جج نے انکی موجودگی میں خلع و تنسیخِ نکاح گرانٹ کر دی اور میرا حق مہر کی رقم واپس کرنے کو کہا، جو میں نے اُس وقت واپس دے دی، جو شوہر نے فورا لے لیا اور رسید پر دستخط بھی کر دیے،براہِ مہربانی، فتویٰ درکار ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، تو شوہر کا بیوی کے حقوق وغیرہ کی ادائیگی نہ کرنا اور بیوی کو خود لذتی کی طرف اُکسانا فحش ویڈیوز دیکھا کر اسےگناہ پر مجبور کرنا شرعاً ناجائز اور حرام عمل ہے جس کی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہوا ہے، ان اعذار کی بنا پر اگر سائلہ نے اس سے خلع کے ذریعہ علیحدگی لے لی ہو، تو امید ہے کہ وہ گناہ گار نہ ہوگی، چنانچہ اگر سائلہ نے عدالت کے ذریعہ خلع لے لی ہو اور سائلہ کے شوہر نے بھی اس خلع پر دستخط کرتے ہوئے رضامندی کا اظہار کر لیا ہو، تو شرعا یہ خلع معتبر ہو کر دونوں کا نکاح ختم ہو چکا ہے، جس کے بعد سائلہ ایام عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالھادی شعیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82340کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات