کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ا مسئلہ میں کہ میں اپنے ایک رشتہ دار جو رشتہ میں میری والدہ کا چچازاد ہے سے کورٹ میرج کیا ہے اور کورٹ میرج کی وجہ یہ تھی کہ لڑکے کے گھر والے راضی نہیں ہو رہے تھے تو لڑکے اور لڑکی نے آپس کی رضامندی سے کورٹ میرج کر لیا، لیکن اب لڑکے کے بھائی اس کومار رہے ہیں دھمکا رہے ہیں کہ تم اس لڑکی کو طلاق دیدو۔ ہم کسی حال میں اس کو رکھنے کے لئے تیار نہیں ہے، جبکہ لڑکا اب بھی طلاق دینے کے لئے راضی نہیں ہے اور نہ ہی لڑکی راضی ہے ۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں لڑکے کے گھر والو کا اس کو مجبور کرنا تشدد کرنا اور اس کو طلاق دینے پر مجبور کر شرعاً جائز ہے کہ نہیں؟ اور ان کے لئے کیا حکم ہے ؟ جبکہ طلاق کی صورت میں لڑکی کی زندگی برباد ہو جائیگی۔ حکمِ شرعی سے آگاہ فرمائیں۔
اولیاء کی رضا مندی اور اجازت کے بغیر بالغ لڑکے اور لڑکی کا خود سے نکاح کرنا بڑی جسارت اور بے شرمی پر مبنی عمل ہے شریف خاندان میں اس طرح کے نکاح کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے اور اس طرح نکاح بزرگوں کی دعاؤوں سے خالی ہونے کی وجہ سے بالآخر طلاق اور خلع پر منتج ہو جاتا ہے، اس لئے سائلہ اور اس کے شوہر کو چاہیئے کہ اپنے والدین اور رشتہ داروں کو اس نکاح پر آمادہ کریں اور اپنی غلطی پر ان سے معافی بھی مانگیں، تا کہ آئندہ زندگی اجیرن نہ بنے، جبکہ لڑکے کے بھائیوں اور رشتہ داروں کا مذکور طرزِ عمل انتہائی نا مناسب اور خلافِ شرع ہے، جس سے ان کو اجتناب لازم ہے۔ تاہم اگر وہ کسی طرح اپنے طرزِ عمل سے باز نہ آئیں تو قانونی تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
كما في سنن الترمذي: عن ابن عمر قال: صعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر فنادى بصوت رفيع، فقال: «يا معشر من أسلم بلسانه ولم يفض الإيمان إلى قلبه، لا تؤذوا المسلمين ولا تعيروهم ولا تتبعوا عوراتهم» اھ (4/ 378)۔