کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتیان ِدین اس مسئلہ کے بارے میں کہ
(۱) :تراویح میں قرآن مجید سنانے والے قاری جو ختم شریف پر دی جانیوالی جرت سے دل سے انکار کر دیں ،پھر مقتدی ان کو کچھ غیر متعینہ رقم دے دیں ،تو کیا یہ لینا جائز ہے ؟ اور اگر کوئی کہے کہ قاری کے ایک مہینہ کے لئے امامت کے تھے ،تو یہ کیسی ہے ؟ تمام فرائض سر انجام دے اور آخر میں اسے بطورِ تنخواہ کچھ رقم دے دی جائے ،تو یہ کیسی ہے؟
(۲): رمضان کی تیسویں شب تراویح کے بعد سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم تلاوت کی جاتی ہے،اور صبح یعنی تیسویں روز خواتین مسجد میں آکر یہی سورتیں قاری صاحب سے دوبارہ سنتی ہیں، کیا ایسا کرنا شریعتِ مطہّرہ میں جائز ہے ،اور اس پر اجرت لینا کیسا ہے ؟
(۳) :وہ نمازیں جن کے بعد نوافل ہیں ان کے بعد مجموعی طور پر امام کیسا تھ دعا مانگنے کو شرعی قرار دینا اور اسی طرح بعد التراویح اور قبل الوتر مجموعی دعا کرنا کیسا ہے ؟ برائے کرم مندرجہ بالا مسائل کا حل شریعتِ مطہّرہ سے مفصّل اور مدلّل مرحمت فرما کر مروّجہ بدعات کا سدِّ باب فرمائیں۔
۱: تراویح میں قرآن سنانے پر مشروط یا معروف طریقہ سے خدمت وغیرہ کے نام سے جو کچھ دیا جاتا ہے، چاہے سنانے والا کوئی بھی ہو، اس کا لین دین شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے، البتہ حافظ یا متنظمہ کمیٹی کی طرف سے لین دین نہ کرنے کی تصریح کے باوجود اگر کوئی حافظ قرآن تراویح میں قرآن سنادے ،اور کچھ لوگ اس موقع کی مناسبت سے اظہارِ مسرت کے طور پر اسے کچھ نقدی یا کپڑے وغیرہ دے دیں ،تو اس کا پیسے لے کر اپنے استعمال میں لانا جائز ہے، اور ایسے حافظ کی اقتداء میں نماز پڑھنا بھی جائز اور درست ہے ۔ جبکہ امام و مؤذن کو کچھ دینا اگرچہ تبرع ہونے کیوجہ سے ہے، مگر اس کو رسم بنا لینا اور نہ دینے کی صورت میں حقارت کی نگاہ سے دیکھنا اور مختلف القابات سے نوازنا التزام ما لا یلزم کی وجہ سے ممنوع ہے، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ سوال میں دوسری صورت میں اس امام کو کچھ دینا اور اس کا لے لینا بلاشبہ جائز ہے ،شرعاً کوئی قباحت نہیں ۔
۲: صورت مسئولہ میں مذکور رسم کا قرونِ ثلاثہ مشہود لها بالخیر یعنی دورِ صحابہ و تابعین سےکوئی ثبوت نہیں، نیز یہ خواتین کی شرکت وغیرہ دوسرے منکرات پر بھی مشتمل ہے ،لہذا اس کا اہتمام اور اس پر اجرت لینا ہر دو امور شرعاً ناجائز ہیں، جن سے احتراز لازم ہے ۔
۳: ان نمازوں کے بعد مختصر دعا کرنا چاہیئے ، انفرادی ہو یا اجتماعی سنتِ مستحبہ ہے، مگر اس کو لازم سمجھنا اور جو نہ کرے، اسے طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا وغیرہ ایسے امور ہیں، جن کی وجہ سے ایک جائز بلکہ مستحب امر بھی بدعت بن جاتا ہے، اس لئے اس طرز عمل سے احتراز چاہیے ۔
ففی مشكاة المصابيح: عن بريدة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قرأ القرآن يتأكل به الناس جاء يوم القيامة ووجهه عظم ليس عليه لحم» . رواه البيهقي في شعب الإيمان اھ (1/ 680)۔
و في حاشية ابن عابدين: فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة إلى جمع الدنيا اھ (6/ 56)۔
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0