نکاح

نکاح کے بعد رخصتی نہ ہوئی ہو تو کیا تب بھی ولیمہ کی دعوت کرنا ضروری ہوگا ؟

فتوی نمبر :
82703
| تاریخ :
2025-05-12
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح کے بعد رخصتی نہ ہوئی ہو تو کیا تب بھی ولیمہ کی دعوت کرنا ضروری ہوگا ؟

کیافرماتےہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لڑکا اور لڑکی کا نکاح ہوگیا اوررخصتی نہیں ہوئی ۔اگر رخصتی ایک سال کے بعد ہوتی ہےتو ولیمہ کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟چونکہ ولیمہ شادی یا نکاح کے سات دن گزرجانے کے طویل عرصہ بعد ہوگا تو طعام وغیرہ ولیمہ ہی ہوگا یا پھر کیا کہلائےگا؟ نکاح ہوجانے کے بعد اس بات پر اصرار کرنا کہ شادی نہیں ہوئی ، صرف نکاح ہوا ہے، کیا یہ عمل خلافِ شریعت نہیں؟ رخصتی میں سات یوم سے زائد عرصہ کی تاخیر قصداً کرنا ، کیا یہ بھی خلافِ شریعت ہے؟ اگر ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟اور اس کا وبال کس کے ذمہ ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح کے بعد سات دن کے اندر اندر ولیمہ کرنا کوئی لازم و ضروری نہیں بلکہ راجح قول کے مطابق ولیمہ کا مسنون وقت رخصتی اور شبِ زفاف کے بعد کا ہے۔اسی طرح نکاح کے بعد رخصتی کےلئے بھی کوئی مخصوص مدت شریعت نے متعین نہیں کی اور نہ ہی سات یوم سے زائد رخصتی میں تأخیر سے نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے، مگر بلا وجہ رخصتی میں تاخیر بہتر نہیں،بلکہ بعض دفعہ کئی مفاسد کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس لئے جلد رخصتی کی کوشش کرنی چاہیئے اور بلا عذر تأخیر سے بچنے کا اہتمام کرناچاہیے۔ تاہم کسی معقول عذر کی بناء پر اگر رخصتی میں کچھ مناسب تأخیر ہوجائے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، اس کی وجہ سے گناہ بھی لازم نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن الترمذی: حدثنا قتيبة قال: حدثنا عبد الله بن وهب، عن سعيد بن عبد الله الجھنی، عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب، عن أبيہ، عن علي بن أبي طالب، أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال له: يا علی، ‌ثلاث لا ‌تؤخرھا: الصَلاة إذا أتت، و الجنازۃ إذا حضرت، و الأیم إذا وجدت لھا كفئا۔الحدیث۔ (باب ما جاء فی تعجیل الجنازۃ،ج 3،ص 379، ط:شرکۃ مکتبۃ)۔
و فی عمدۃ القاری: و قد اختلف السلف في وقتھا: هل هو عند العقد أو عقيبة؟ أو عند الدخول أو عقيبه؟ أو موسع من ابتداء العقد إلى انتھاء الدخول؟ على أقوال. قال النووي: اختلفوا، فقال عياض: إن الأصح عند المالكية استحبابه بعد الدخول، و عن جماعة منھم: أنھا عند العقد، و عند ابن حبيب: عند العقد و بعد الدخول، و قال في موضع آخر: يجوز قبل الدخول و بعده، و قال الماوردي: عند الدخول، و حديث أنس: فأصبح رسول الله صلى الله عليه و سلم عروسا بزينب فدعي القوم، صريح أنھا بعد الدخول و استحب بعض المالكية أن تكون عند البناء و يقع الدخول عقيبھا، و علیه عمل الناس إلخ (باب الصفرۃ المتزوج، ج 14، ص 112، ط: امدادیۃ ملتان)۔
و فی اعلاء السنن: و المنقول من فعل النبي صلی الله علیه و سلم أنھا بعد الدخول، کأنه یشیر إلی قصة زینب بنت جحش، و قد ترجم علیه البیھقي بعد الدخول، و حدیث أنس في هذا الباب صریح في أنھا الولیمة بعد الدخول إلخ (باب استحباب الولیمۃ، ج 11، ص 12، ط: ادارۃ القرآن)۔
و فی حجۃ البالغۃ: و فیھا مصالح کثیرۃ: (منھا) التلطف بإشاعۃ النکاح و أنہ علی شرف الدخول بھا إذ لابد من الإشاعۃ لئلا ینقی محل لوھم الواھم فی النسب، و لیتمیز النکاح عن السفاح بادی الرأی و یتحقق اختصاصہ بھا علی أعین الناس إلخ (مبحث فی صفۃ النکاح، ص 130، ط: دار الکتب)۔
و فی الھندیۃ: و وليمة العرس سنة، و فيھا مثوبة عظيمة، و هي إذا بنی الرجل بامرأته ينبغي أن يدعو الجیران و الأقرباء و الأصدقاء، و يذبح لھم، و يصنع لھم طعاما، و إذا اتخذ ينبغي لھم أن يجيبوا، فإن لم يفعلوا أثموا، قال عليه السلام: (من لم يجب الدعوة، فقد عصى الله و رسوله، فإن كان صائمًا أجاب و دعا، و إن لم يكن صائمًا أكل و دعا، و إن لم يأكل أثم و جفا) كذا في خزانة المفتين إلخ(کتاب الکراھیۃ، ج 5، ص 343، ط: ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82703کی تصدیق کریں
0     20
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات